اسلام آباد:

وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت کی اصلاحاتی اور عوام کی فلاح و بہبود پر مشتمل پالیسیوں کا ثمر عوام تک پہنچانے کے لیے سول سروسز کو بنیادی ڈھانچہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سول سروسز کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں۔

وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سول سروسز میں مجوزہ اصلاحات کی پیش رفت پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا جہاں وزیراعظم نے سول سروسز اصلاحات پر کام کرنے والی کمیٹی کو افسران کی کارکردگی کی جامع جانچ کی بنیاد پر ترقی، مالی فوائد اور دیگر سہولیات کے نظام کی سفارشات مرتب کرنے کی خصوصی ہدایات دیں۔

 انہوں نے کہا کہ سول سروسز اصلاحات، ملکی معاشی و معاشرتی، ترقی و خوش حالی کے لیے ناگزیر ہیں اور حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔  

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی اصلاحاتی اور عوام کی فلاح و بہبود پر مشتمل پالیسیوں کا ثمر عوام تک پہنچانے کے لیے سول سروسز ایک بنیادی ڈھانچے کا کردار ادا کرتی ہے، ملکی سول سروس کو بین الاقوامی معیار اور  عالمی سطح کی کارکردگی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں۔

انہوں نے ہدایت کی کہ وفاقی سیکریٹریز کی کارکردگی جانچنے کے لیے جامع اور مؤثر نظام کی سفارشات مرتب کی جائیں، اچھی کارکردگی دکھانے والے افسران کی تحسین سول سروسز کی مجموعی بہتری کے لیے نہایت ضروری ہے اور متعلقہ کمیٹی ملکی سول سروس میں ارتقائی مگر مؤثر اور جامع اصلاحاتی سفارشات جلد از جلد مرتب کرے۔

وزیراعظم نے کہا کہ افسران کی کارکردگی کی جامع جانچ کی بنیاد پر ان کی ترقی، مالی فوائد اور دیگر سہولیات کے نظام کی سفارشات کو مرتب کیا جائے، ملکی سول سروس میں اصلاحات کا مطمع نظر مؤثر عوامی خدمت اور سہولیات کی فراہمی کی بدولت عوام کی زندگی میں واضح بہتری کو یقینی بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملکی معاشی آسودگی اور سماجی ہم آہنگی ترقی و خوش حالی کے لیے ہمہ جہت سول سروس اصلاحات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، سول سروس کی مجوزہ اصلاحات میں سول انتظامیہ، تمام سروسز اور گروپس کے اسٹیک ہولڈرز سے بامعنی مشاورت کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملکی سول سروس کسی بھی ملک کی گورننس اور عوامی فلاح و بہبود کا بنیادی ڈھانچہ ہوتی ہے، افسران کی کارگردگی اور قابلیت کو دور حاضر کے عصری تقاضوں اور عالمی سطح کے معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے خصوصی سفارشات مرتب کی جائیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ سول سروسز اصلاحات کے لیے قائم کردہ کمیٹی ایسی سفارشات تجویز کریں جو قابل عمل اور دیر پا اور مؤثر عوامی سہولت کا باعث بنے۔

قبل ازیں سول سروسز اصلاحات پر قائم کردہ کمیٹی نے وزیراعظم کو اب تک کی مشاورت اور سفارشات پر اجلاس میں بریفنگ دی۔

 اجلاس میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ احسن اقبال، وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ،  وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، تمام صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور متعلقہ سرکاری عہدے داران نے شرکت کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سول سروسز اصلاحات ملکی سول سروس کی کارکردگی ناگزیر ہیں وفاقی وزیر افسران کی نے کہا کہ حکومت کی کے لیے

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار