پروٹیکٹڈ بجلی صارفین کی تعداد دگنی ہونے سے پاور سیکٹر پر بوجھ بڑھ گیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
پاور ڈویژن نے کہا ہے کہ آف گرڈ سولر صارفین میں اضافے کی وجہ سے پروٹیکٹڈ صارفین کی تعداد دگنی ہو کر 22 ملین ہوگئی ہے، جس سے پاور سیکٹر پر بوجھ بڑھا ہے۔
پاور ڈویژن کے مطابق حکومت نے برسراقتدار آنے کے بعد کراس سبسڈی میں 123 ارب روپے کی کمی لاتے ہوئے اس کے حجم کو 225 ارب روپے سے کم کر کے 102 ارب روپے تک لانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
مزید پڑھیں: مخصوص طبقے کو بجلی، گیس اور ٹیکس میں رعایتیں، مصدق ملک بول پڑے
پاور ڈویژن نے بتایا ہے کہ فی یونٹ سبسڈی کا بوجھ 8.
بیان کے مطابق حکومت نے ناکارہ پاور پلانٹس بند کیے اور آئی پی پیز کے ساتھ کامیاب مذاکرات اور معاہدے کیے جس کے نتیجے میں ملک میں بجلی کی قیمت میں کمی آئی ہے۔
’مزید برآں حکومت نے 3 سال کے لیے اضافی بجلی کی کھپت پر 22.98 روپے فی یونٹ کا پیکج دیا ہے۔‘
پاور ڈویژن کے مطابق سرکلر ڈیٹ کو ختم کرنے کے پلان پر کام شروع کردیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں عوام کو فی یونٹ 3.23 روپے کا ریلیف ملے گا۔
’آف گرڈ سولر صارفین میں اضافے کی وجہ سے پروٹیکٹڈ صارفین کی تعداد دگنی ہو کر 22 ملین ہوگئی ہے، جس سے پاور سیکٹر پر بوجھ بڑھا ہے۔‘
مزید پڑھیں: بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافہ ہوگا یا نہیں؟ حکومت نے بڑا فیصلہ کرلیا
تاہم کمرشل اور بلک سپلائی صارفین اس وقت بھی صنعتوں کے مقابلے میں زیادہ کراس سبسڈی کے بوجھ کا سامنا کررہے ہیں۔
حکومت کے مطابق ٹیرف وسیع تر سماجی و اقتصادی پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں اور کراس سبسڈی کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے مختلف آپشنز تلاش کیے جا رہے ہیں، جن میں سبسڈی اصلاحات اور قرض کی ری فنانسنگ شامل ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بوجھ بڑھ گیا پاور ڈویژن پاور سیکٹر پروٹیکٹڈ صارفین حکومت وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بوجھ بڑھ گیا پاور ڈویژن پاور سیکٹر پروٹیکٹڈ صارفین حکومت وی نیوز پاور سیکٹر پر پاور ڈویژن کے مطابق حکومت نے فی یونٹ
پڑھیں:
سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
کراچی: سندھ حکومت نے سرکاری ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے ریلیف دینے کے لیے سفری الاؤنس اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس فیصلے کی منظوری دی گئی، جبکہ نئی شرحوں کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔
صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف پیکیج، صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، گورننس اور غذائی تحفظ سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری بھی دی۔
بی پی ایس 1 سے 16 تک ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس
کابینہ نے بی پی ایس 1 سے 16 تک کے ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس 2026 کی منظوری دی ہے۔ یہ الاؤنس منجمد بنیادی پے اسکیل 2022، جو 30 جون 2026 تک نافذ تھا، پر 2 فیصد کی شرح سے ادا کیا جائے گا۔
حکومت کے مطابق اس الاؤنس کا مقصد وہ فرق ختم کرنا ہے جو 2025 میں سندھ حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کے مقابلے میں زیادہ تنخواہوں میں اضافے کے باعث پیدا ہوا تھا۔
سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ
سندھ کابینہ نے تمام صوبائی سرکاری ملازمین کے سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافے کی بھی منظوری دی ہے۔ نئی شرحیں درج ذیل ہوں گی:
گریڈ پرانا الاؤنس نیا الاؤنس
بی پی ایس 1 تا 4 1,785 روپے 2,678 روپے
بی پی ایس 5 تا 10 1,932 روپے 2,898 روپے
بی پی ایس 11 تا 15 2,856 روپے 4,284 روپے
بی پی ایس 16 اور اس سے اوپر 5,000 روپے 7,500 روپے
معذور ملازمین کے لیے خصوصی سہولت
کابینہ نے معذور سرکاری ملازمین کے لیے خصوصی سفری الاؤنس میں بھی اضافہ کرتے ہوئے اسے 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ رقم معمول کے سفری الاؤنس کے علاوہ ادا کی جائے گی۔
اطلاق کب سے ہوگا؟
حکومت سندھ کے مطابق سفری اور تفریقی الاؤنس سے متعلق تمام منظور شدہ فیصلوں پر یکم جولائی 2026 سے عمل درآمد ہوگا اور یہ موجودہ قواعد و ضوابط کے تحت نافذ رہیں گے۔
دوسری جانب صوبائی کابینہ نے ایگزیکٹو الاؤنس دینے کی تجویز منظور نہیں کی۔ وزیر اطلاعات نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس تجویز پر فی الحال اتفاق نہیں ہو سکا۔
سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بڑھتی مہنگائی کے تناظر میں سرکاری ملازمین کو مالی ریلیف فراہم کرنا اور ان کے سفری اخراجات میں کمی لانا ہے، جبکہ آئندہ بھی ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔