پاراچنار میں WF Aid کے تعاون سے 50 جوڑؤں کی اجتماعی شادی کی تقریب
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
تحریک حسینی کے سپریم لیڈر علامہ سید عابد الحسینی نے اپنے خطاب میں شادیوں کی اہمیت، حقوق زوجین، جیون ساتھی کے انتخاب کا طریقہ، نیز شادیوں کو آسان کرنے میں عوام اور خواص کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا، جیون ساتھی کے انتخاب میں اکثر حُسن، دولت اور ظاہری ٹھاٹ باٹح کو اولیت دی جاتی ہے۔ حالانکہ یہ روش درست نہیں۔ جیون ساتھی کے ساتھ ایک عمر گزارنی پڑتی ہے، اس حوالے سے اسکے ظاہری حسن و جمال کی بجائے اسکے اخلاق، کردار اور تقوی پر انحصار کرنا چاہئے۔ رپورٹ: استاد ایس این حسینی
WF Aid اور محسن اینڈ فوزیہ جعفر فاونڈیشن پاکستان کے مالی تعاون سے تحریک حسینی کے زیر نگرانی آج 12 جنوری 2026ء کو جناح سٹیڈیم پاراچنار میں اجتماعی شادیوں کے تحت 50 نادار جوڑوں کو رشتہ ازدواج میں منسلک کرایا گیا۔ اس موقع پر WF Aid کے رہنما ڈاکٹر غلام قنبر عمرانی اور علامہ موسی رضا اور انکی ٹیم نے خصوصی شرکت کی۔ پاک فوج کے کمانڈر بریگیڈئیر علی مختار، اے سی پاراچنار خالد عمران اور دیگر سرکاری افسران کے علاوہ کرم کے با اثر شخصیات اور عمائدین، انجمن حسینیہ کے اراکین، ایم ڈبلیو ایم، دستر خوان امام حسنؑ کی ٹیم اور پیپلز پارٹی کے رہنماوں، نو بیاہتے جوڑوں کے رشتہ داروں نیز عوام الناس کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔
پروگرام کے لئے جناح سٹیڈیم پاراچنار کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔ پچاس جوروں کے سامان کو ایک خاص ترتیب سے رکھ کر سٹیڈیم کو چار چاند لگا ئے گئے تھے۔ سامان کی فی جوڑا مالیت لگ بھگ 4 لاکھ روپے تھی۔ شرکاء کے لئے سٹیڈیم کے شمالی حصے میں خوبصورت پنڈال اور اسکے سامنے سٹیج کو بھی نہایت خوبصورت انداز سے تیار کیا گیا تھا۔ سٹیج کے دائین اور بائین جانب دولہوں کی نشستین سجائی گئی تھیں۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز ساڑھے گیارہ بجے مدرسہ آیۃ اللہ خامنہ ای کے طالب علم قاری مبشر حسین نے اپنی مسحور کن آواز میں تلاوت کلام اللہ مجید سے کیا۔ جسکے بعد تحریک حسیی کے نائب صدر علامہ سید امین شاہ نے ابتدائی کلمات کے ساتھ پروگرام کا مختصر خاکہ پیش کیا۔ اور ذاکر سید لیاقت حسین کو اس مناسبت سے خصوصی ترانہ پیش کرنے کی دعوت دی۔
اس کے بعد تحریک حسینی کے سابق صدر اور انجمن حسینیہ کے ڈپٹی سیکرٹری علامہ سید تجمل الحسینی کو دعوت خطاب دی گئی۔ جنہوں نے اسلام میں شادیوں کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے پروگرام کے بانی رہنماوں خصوصا علامہ سید افتخار حسین نقوی اور یہاں اس پروگرام کا بیڑہ اٹھانے والے علامہ سید عابد الحسینی اور تحریک حسینی کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ اسکے بعد صدر تحریک حسینی ماسٹر یونس علی اور جی ایس تحریک حسینی سید اخلاق حسین کو دعوت خطاب دی گئی۔ انہوں نے تحریک حسینی اور اہلیان کرم کی جانب سے اس پروگرام کے تمام ڈونرز کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ صدر صاحب نے تحریک حسینی کے توسط سے سماجی پروگرامات کی ایک جھلک پیش کی۔ اور ان پروگرامات میں انکے ساتھ تعاون کرنے والے اداروں خصوصا ڈبلیو ایف ایڈ، محسن اینڈ فوزیہ فاونڈیشن اور امام خمینی ٹرسٹ اور انکی پوری ٹیم کا شکریہ ادا کیا، اور انکے لئے اللہ سے خصوصی دعائیں مانگیں۔
اس کے بعد علامہ ڈاکتر غلام قنبر عمرانی نے خطاب کیا۔ انہوں نے ڈبلیو ایف ایڈ اور محسن اور فوزیہ جعفر فاونڈیشن کا تعارف کرایا، اور انکے تحت پورے پاکستان خصوصا پاراچنار میں چلنے والے رفاہی اور سماجی پروگرامات کا مختصر خاکہ پیش کیا۔ آخر میں انہوں نے تحریک حسینی کے جملہ رہنماؤں بالخصوص اسکے سرپرست اعلی علامہ سید عابد الحسینی کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ کرم میں وہ ایک عرصہ سے تحریک حسینی کی نگرانی میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اس عرصے میں تحریک حسینی کی منظم ٹیم نے ہمارے ساتھ شانہ بشانہ رہ کر مستحق لوگوں تک انکا حق پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔
تحریک حسینی کے سپریم لیڈر علامہ سید عابد الحسینی نے اپنے خطاب میں شادیوں کی اہمیت، حقوق زوجین، جیون ساتھی کے انتخاب کا طریقہ، نیز شادیوں کو آسان کرنے میں عوام اور خواص کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا، جیون ساتھی کے انتخاب میں اکثر حُسن، دولت اور ظاہری ٹھاٹ باٹح کو اولیت دی جاتی ہے۔ حالانکہ یہ روش درست نہیں۔ جیون ساتھی کے ساتھ ایک عمر گزارنی پڑتی ہے، اس حوالے سے اسکے ظاہری حسن و جمال کی بجائے اسکے اخلاق، کردار اور تقوی پر انحصار کرنا چاہئے۔ تقریر کے آخر میں علامہ الحسینی نے علامہ سید افتخار نقوی اور اسکے عملے، نیز اس پروگرام کے تمام ڈونرز خصوصا ڈبلیو ایف ایڈ اور محسن اینڈ فوزیہ جعفر فاونڈیشن کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ جنکی وجہ سے پچاس افراد کو ایک نئی زندگی عنایت ہوئی۔ اور اللہ سے انکی طول عمری کیلئے دعا کی۔
پروگرام کے آخر میں علامہ سید عابد الحسینی نے دو دولہوں کو کلاہ لنگی پہنائی، اسکے بعد پندال میں موجود مذہبی، سیاسی اور سماجی شخصیات نے باقی دولہوں کو کلاہ لنگیاں پہلنائیں۔ پروگرام کے اختتام پر شرکاء محفل کو پارسلز میں ولیمہ کے عنواں سے پر تکلف طعام پیش کیا گیا۔ اور یوں یہ پروقار پروگرام اختتام کو پہنچ گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ سید عابد الحسینی جیون ساتھی کے انتخاب تحریک حسینی کے شکریہ ادا کیا پروگرام کے الحسینی نے انہوں نے کے ساتھ کے بعد پیش کی
پڑھیں:
جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آنے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ پہلے تو اس ویڈیو کو فیک اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تخلیق بتایا گیا لیکن جب ویڈیو اصل نکل آئی تو ممتاز سینئیر سیاست دان نے دوسری شادی کرنے کا دعویٰ کیا۔ خاتون کے غیر شادی شدہ ہونے کی دستاویز نے سیاستدان کو زیادہ مشکل میں ڈال دیا۔ بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے رکن، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سینئیر سیاستدان غازی نذرالاسلام کی ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک کی مبینہ دوسری شادی کے معاملے پر تنازع ان کے دوسری شادی کا اعتراف کر لینے کے بعد کم نہیں ہوا۔ اب جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سارے معاملہ کی تحقیقات کروا رہی ہے
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق غازی نذرالاسلام کی سوشل میڈیا پر ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہو گئی تھی۔ پہلے تو ان کے حامیوں نے اس ویڈیو کو ڈیپ فیک اور آڑٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی ویڈیو قرار دیا، لیکن جب تنقید کرنے والے خاموش نہیں ہوئے تو بعض لوگوں نے اس ویڈیو کی سافٹ وئیرز کی مدد سے ویریفیکیشن کی۔ فیکٹ چیک کرنے والے ایک ادارے نے بتا دیا کہ ویکڈو بالکل اصلی ہے۔ نذر الاسلام کی نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو کے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے یا اس میں کوئی تبدیلی کیے جانے کے شواہد نہیں مل۔ اس کے بعد لوگوں کی ساری توجہ ویڈیو میں شامل افراد اور ان کے باہمی تعلق پر مرکوز ہوگئی۔ جب سوشل میڈیا پر تنقید کافی برھ گئی تو جماعت اسلامی کے سینئیر سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ نے ویڈیو کلپ میں اپنے ساتھ دکھائی دینے والی نوجوان خاتون کو اپنی بیوی قرار دے دیا۔ غازی نذرالاسلام نے اپنے بیان میں کہا کہ خاتون ان کی دوسری بیوی ہے اور ان کی شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور ان کی پہلی بیوی کی رضامندی سے ہوئی تھی۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
نذر الاسلام نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس وائرل ویڈیو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرکے بھتہ خوری اور سیاسی کردار کشی کےلیے منظرِ عام پر لایا گیا۔ جماعت اسلامی کے اس سینئیر رکنِ پارلیمنٹ کی پہلی بیوی نے اس موقع پر شوہر کا ساتھ دیا اور ایک ویڈیو بیان میں اپنے عمر رسیدہ شوہر کے مؤقف کی تصدیق کی کہ ان کے شوہر نے نوجوان لڑکی مریم بیگم سے دوسری شادی کرلی ہے۔ مریم بیگم نے بھی ایک علیحدہ ویڈیو میں خود کو غازی نذرالاسلام کی بیوی قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور نذر الاسلام کی پہلی بیوی کی موجودگی میں ہوئی تھی۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
بنگلہ دیشی میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق غازی نذرالاسلام اور ان کے خاندان کی تصدیق کے باوجود سوشل میڈیا پر خاتون مریم بیگم سے متعلق قانونی دستاویزات منظر عام پر آئی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ یا خاتون اور ان کے اہلخانہ نے دستاویز ات میں موجود تضاد پر کوئی وضاحت دی ہے۔ شادی کے پانچ دن بعد نذر الاسلام نے بیوی کو کنوارا ظاہر کر کے اسکی سرکاری نوکری کی سفارش کی؟ ایک دستاویز میں نذر السلام کے ساتھ نظز آنے والی لڑکی مریم کی ازدواجی حیثیت ’غیر شادی شدہ‘ درج ہے اور اس دستاویز پر غازی نذرالاسلام کی جانب سے 22 جون، یعنی اپنی بتائی ہوئی مبینہ شادی کی تاریخ کے پانچ روز بعد، سرکاری ملازمت کے لیے سفارش بھی موجود دکھائی دیتی ہے۔
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق یہ خاتون سرکاری ملازمت کی خواہاں تھیں اور غازی نذرالاسلام نے ان کی درخواست کی سفارش کی تھی۔ غازی نذرالاسلام نے ان تمام کہانیوں نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور پیچیدہ کہانی سے پردہ اٹھا دیا جو دال میں کافی کچھ کالا ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ عمر رسیدہ سیاستدان نذر الاسلام نے یہ دعویٰ کیا کہ 13 جولائی کو وہ ڈھاکا کے موگ بازار میں ایک دفتر گئے تھے جہاں ان کی دونوں بیویاں بھی موجود تھیں۔
نذر الاسلام نے الزام لگایا کہ ڈرائیور، دوسری کے ماموں اور چند نامعلوم افراد نے انہیں یرغمال بنا کر ایک لاکھ ٹکا بھتہ وصول کیا، ان لوگوں نے نذر الاسلام کے بقول مزید رقم کا مطالبہ کیا اور ان لوگوں نے ہی ان کی مریم کے ساتھ خفیہ طور پر نجی ویڈیو ریکارڈ کرکے بعد میں سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔ نذر الاسلام کے اس دعوے میں کمزوری یہ ہے کہ ویڈیو کلپ مین نذر الاسلام کو اس خاتون کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھے اور بوس و کنار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ بازار کے کسی دفتر میں یرغمال بنا کر بھتہ لینے والوں کی رسائی ان کے گھر کے کمرے تک کیسے تھی۔
پاکستان نے کابل فضائی حملوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی
اس سکینڈل کے سوشل میڈیا اور میڈیا میں بہت زیادہ ڈسکس ہونے کے بعد آخر کار جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وہ اس سارے معاملے کی معلومات اکٹھی کر رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد تنظیم کے اندر تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان الحق محبوب زبیر کے مطابق پارٹی میڈیا رپورٹس، رکنِ پارلیمنٹ، ان کی دونوں بیویوں اور خاتون کے والد کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔
مزید :