( سٹی42)قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے تقرر کے لئے تمام ضابطے مکمل کر لئے گئے،محمود خان اچکزئی کا بطور قائد حزب اختلاف نوٹی فکیشن کسی بھی وقت جاری کیا جاسکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے اپوزیشن کی نامزدگی فارم پر موجود اراکین کے دستخطوں کی تصدیق کرلی ہے۔محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی اپوزیشن لیڈر کے لئے واحد امیدوار ہیں ۔محمود خان اچکزئی کی پی ٹی آئی حمایت یافتہ سمیت 76 اراکین نے حمایت کی ہے،سنی اتحاد کونسل ، ،ایم ڈبلیو ایم کے اراکین نے بھی محمود اچکزئی کی حمایت کی ہے ۔،ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا نوٹی فکیشن کسی بھی وقت جاری کیا جاسکتا ہے ۔

 سرکاری محکموں میں پیٹرول و ڈیزل گاڑیوں پر پابندی عائد

 ذرائع کے مطابق اسپیکر چیمبر میں قائد حزب اختلاف کی تقرری سے متعلق اسکروٹنی کی گئی، سیکریٹری قومی اسمبلی اور اسپیشل سیکریٹری لاء نے مشاورتی عمل میں شرکت کی۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی نشست 5 اگست 2025 سے خالی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سٹی42 اپوزیشن لیڈر اپوزیشن لیڈر حمایت حمایت محمود اچکزئی حمایت اپوزیشن لیڈر اپوزیشن لیڈر اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل