دہلی کار دھماکہ کیس میں ڈاکٹر شاہین سمیت 5 ملزمان کی "این آئی اے" کی تحویل میں تین دن کی مزید توسیع
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
این آئی اے کے مطابق جسیر بلال وانی نے ڈرون میں تکنیکی تبدیلیاں کیں اور کار بم دھماکے سے قبل ایک راکٹ کو اسمبل کرنے کی کوشش کی۔ اسلام ٹائمز۔ دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے لال قلعہ دھماکہ کیس کے پانچ ملزمان بشمول ڈاکٹر شاہین سعید کو تین دن کے لئے "این آئی اے" کی تحویل میں دے دیا ہے۔ پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج انجو بجاج چاندنا نے یہ حکم جاری کیا۔ ڈاکٹر شاہین سعید کے علاوہ "این آئی اے" کی تحویل میں بھیجے گئے دیگر ملزمان میں مفتی عرفان احمد، جاسر بلال وانی عرف دانش، ڈاکٹر عادل احمد، اور ڈاکٹر مزمل شکیل شامل ہیں۔ اس سے قبل 18 نومبر کو عدالت نے جسیر بلال وانی کو این آئی اے کی تحویل میں دے دیا۔ این آئی اے کی ٹیم نے جسیر بلال وانی کو 17 نومبر کو سرینگر سے گرفتار کیا تھا۔ این آئی اے کے مطابق جسیر بلال وانی نے ڈرون میں تکنیکی تبدیلیاں کیں اور کار بم دھماکے سے قبل ایک راکٹ کو اسمبل کرنے کی کوشش کی۔ این آئی اے کے مطابق انہوں نے عمر النبی کے ساتھ مل کر پوری سازش کو انجام دینے میں کلیدی رول ادا کیا تھا۔
این آئی اے کے مطابق دانش جو کہ پولیٹیکل سائنس کے گریجویٹ ہیں کو عمر نے خودکش بمبار بننے کے لئے برین واش کیا تھا۔ انہوں نے اکتوبر 2024ء میں کولگام کی ایک مسجد میں ڈاکٹر ماڈیول سے ملنے پر اتفاق کیا، جہاں سے انہیں فرید آباد، ہریانہ میں الفلاح یونیورسٹی میں قیام کے لئے لے جایا گیا۔ دانش کو پہلے جموں و کشمیر پولیس نے حراست میں لیا تھا اور پوچھ گچھ کے دوران اس نے انکشاف کیا کہ ماڈیول کے دیگر ارکان اسے کالعدم جیش محمد کے لئے اوور گراؤنڈ ورکر (او جی ڈبلیو) بننا چاہتے تھے، جبکہ عمر کئی مہینوں سے اسے خودکش بمبار بننے کے لئے برین واش کر رہا تھا۔
این آئی اے کے مطابق عمر کی کوشش اس سال اپریل میں ناکام ہوگئی جب دانش نے اپنی خراب مالی حالت اور اس حقیقت کا حوالہ دیتے ہوئے انکار کردیا کہ اسلام میں خودکشی کو گناہ سمجھا جاتا ہے۔ قبل ازیں عدالت نے اس معاملے میں گرفتار ملزم عامر رشید علی کو دس دن کے لئے این آئی اے کی تحویل میں دے دیا تھا۔ عامر رشید علی کو این آئی اے نے 16 نومبر کو گرفتار کیا تھا۔ واضح رہے کہ عامر لال قلعہ دھماکہ کیس میں این آئی اے کے ذریعہ پہلی گرفتاری تھی۔ عامر رشید علی پر مرکزی ملزم عمر کی گاڑی کے حصول میں مدد کرنے کا الزام ہے۔ غور طلب ہے کہ عامر رشید علی کے نام پر رجسٹرڈ ایک آئی ٹیوئنٹی کار 10 نومبر کو لال قلعہ کے قریب دھماکہ ہوا تھا، دھماکے میں 15 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: آئی اے کے مطابق جسیر بلال وانی عامر رشید علی کی تحویل میں نومبر کو کیا تھا کے لئے
پڑھیں:
حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔
مزید :