پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 20جنوری کو طلب کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 20جنوری کو طلب کرنے کا فیصلہ parliament house Islamabad WhatsAppFacebookTwitter 0 14 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 20جنوری کو طلب کرنے کا فیصلہ ، جس کے لئے وزارت پارلیمانی امور نے سمری وزیراعظم کوارسال کر دی۔ مشترکہ اجلاس 20جنوری صبح 10:30پر طلب کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں اہم قانون سازی ہو گی۔مجموعی طور پر 29 بل منظوری کے لئے پیش ہوں گے۔18 نجی 11 حکومتی بل منظوری کے لیئے پیش ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق 24 بل صدر کی منظوری کے بغیر واپس کئے گئے جو مشترکہ اجلاس میں پیش ہوں گے۔پانچ نئے بل مشترکہ اجلاس میں پیش کیئے جائیں گے۔جنرنلسٹ پروٹیکشن بل، ڈومیسٹک وائلنس کا بل منظوری کے لئے پیش ہوں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف جامعات کے نجی و سرکاری بل منظوری کے لئے پیش ہوں گے۔قومی کمیشن برائے انسانی حقوق میں ترمیم کا بل سمیت دیگر اہم بل شامل ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرزرداری، نواز اور عمران کے ناموں پر نمبر پلیٹس کی نیلامی کا باضابطہ اعلان زرداری، نواز اور عمران کے ناموں پر نمبر پلیٹس کی نیلامی کا باضابطہ اعلان اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے چین کے سفیر جیانگ ژائی ڈونگ کی ملاقات درآمد شدہ موبائل فون پر ٹیکسوں میں کمی کا معاملہ، وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے ٹیلی کام آپریٹرز کا اہم مطالبہ پورا... اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی آسٹریلیا کے ہائی کمشنر ٹموتھی کین سے ملاقات جوڈیشل کمیشن کی پشاور ہائیکورٹ کے 6ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری پاکستان میں فلپائن کے سابق سفیر سموئل ٹی رمیل کی وفات، تعزیت کا اظہار
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مشترکہ اجلاس 20جنوری
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔