جماعت اسلامی نے وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی اداروں کا صدارتی آرڈیننس اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
جماعت اسلامی نے وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی اداروں کا صدارتی آرڈیننس اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 14 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )جماعت اسلامی نے اسلام آباد میں بلدیاتی اداروں کا صدارتی آرڈیننس عدالت میں چیلنج کر دیا۔جماعت اسلامی کی جانب سے درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی۔ درخواست امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا کی طرف سے دائر کی گئی۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ شیڈول جاری ہونے کے بعد آرڈیننس کا جواز نہیں بنتا اور آرڈیننس مکمل طور پر آئین کی خلاف ورزی ہے۔جماعت اسلامی صدارتی آرڈیننس کو مسترد کرتی ہے۔ اختیارات کی منتقلی اور انتخابات کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔واضح رہے کہ دو روز قبل صدر مملکت آصف علی زرداری نے مقامی حکومت کے قیام سے متعلق اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کا صدارتی آرڈیننس جاری کیا تھا۔
جس کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں میٹروپولیٹن کارپوریشن نظام ختم اور ٹاون کارپوریشنز قائم کیے جائیں گے۔ جبکہ اسلام آباد کو قومی اسمبلی کے تین حلقوں کی بنیاد پر تین ٹان کارپوریشنز میں تقسیم کیا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 20جنوری کو طلب کرنے کا فیصلہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 20جنوری کو طلب کرنے کا فیصلہ زرداری، نواز اور عمران کے ناموں پر نمبر پلیٹس کی نیلامی کا باضابطہ اعلان اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے چین کے سفیر جیانگ ژائی ڈونگ کی ملاقات درآمد شدہ موبائل فون پر ٹیکسوں میں کمی کا معاملہ، وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے ٹیلی کام آپریٹرز کا اہم مطالبہ پورا... اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی آسٹریلیا کے ہائی کمشنر ٹموتھی کین سے ملاقات جوڈیشل کمیشن کی پشاور ہائیکورٹ کے 6ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کا صدارتی آرڈیننس جماعت اسلامی اسلام آباد
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔