جماعت اسلامی جامشورو کی نظام بدلو تبدیلی لائو مہم کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260114-2-13
کوٹری(جسارت نیوز)جماعت اسلامی جامشورو کی جانب سے سندھ میں نظام بدلو تبدیلی لاو مہم کا آغاز۔امیر جماعت اسلامی جامشورو مولانا محمد عمر۔حافظ خلیل اور اعجاز شیخ کی پریس کانفرنس۔ جماعت اسلامی جامشورو کے امیر مولانا محمد عمر نے صحافیوں کو بریفننگ دیتے ہوئے بتایاکہ جماعت اسلامی سندھ کی جانب سے صوبہ بھر میں یکم جنوری سے بدلو نظام سنوارو سندھ مہم کا اعلان کیا ہے جس کا باقاعدہ آغاز کیا جاچکا ہے جامشورو میں اس نظام کیخلاف مہم چلائی جارہی ہے جس کے تحت ہر آدمی کو جماعت کا پیغام پہنچانا ہیکہ بنیادی سہولتیں ملنا ہر شہری کا حق ہے۔سندھ ہمیشہ سے مسائل کا شکار رہا ہے اس کے حق نہیں ملے ہیں سندھ کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر ہم نے ہمیشہ آواز اٹھائی ہے۔سندھ کے مسائل میں قلت آب بجلی گیس کی عدم فراہمی تعلیم اور صحت کے شبعوں میں سہولیات کے فقدان ہے۔سندھ کے لوگ ٹیکس دیتے ہیں مگر حکومت بنیادی سہولتوں کے فراہمی میں مکمل ناکام ہے۔سندھ تمام شبعوں میں پیچھے ہے جس کا سبب یہاں کا نظام ہے جس کو بدلنے کی ضرورت ہے۔حکمران طبقہ اپنے بچوں کو تو معیاری تعلیم اور صحت فراہم کرتی ہے مگر غریب کو وہ نہیں ملتی۔ہم سب کیلئے یکساں سہولیات کی فراہمی کے حق میں ہے۔سندھ میں تعلیم صحت ودیگر شبعوں کا نظام روزبروز زوال پزیر ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ جامشورو میں انگنت مسائل ہیں جس پر آئے روز احتجاج معمول بن گئے ہیں۔بلدیاتی نظام میں عوام کو سہولت نہیں مل سکی ہے۔یہاں امن وامان کی صورتحال مخدوش ہے جس پر شہری عدم تحفظ کا شکار ہے۔یہاں پر عام آدمی اپنے جان مال کے خود حفاظت کرنا پڑتی ہے جو کام پولیس کا ہے وہ عام آدمی خود کررہا ہے۔ضلع جامشورو میں ہر آدمی کو تحفظ فراہم کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ہر شہری کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنا حکومت کافرض ہے۔یہاں پر پانی کا بڑا مسئلہ ہے صوبہ کو پانی کا مکمل حصہ ملنا چاہیے جس سے زراعت کے ساتھ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔کے بی فیڈر کو مرمت کے نام پر بند کیا جاتا ہے مگر کام بروقت نہیں ہوتا جس سے ٹینکر مافیا کو فائدہ ہوتا ہے یہاں غریب آدمی محدود آمدنی کے باوجود مہنگے داموں پانی خریدنے پر مجبور ہے۔ضلعی انتظامیہ جامشورو فوری قلت آب کو دور کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی جامشورو ہے سندھ ہے یہاں
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔