سندھ طاس معاہدے کی معطلی پاکستان کے آبی حقوق‘ خطے کے امن کیلیے خطرہ ہے‘ احسن اقبال
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260114-08-20
اسلام آباد (نمائندہ جسارت) وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی خطے کے امن اور پاکستان کے آبی حقوق کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔احسن اقبال کی زیر صدارت ٹاسک فورس برائے نیشنل واٹر سیکورٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا جس میں وفاقی وزیر آبی وسائل میاں محمد معین وٹو نے بھی شرکت کی، اجلاس میں وزیر منصوبہ بندی نے وزارت آبی وسائل کے تحت ایک خصوصی ورکنگ گروپ قائم کرنے اور 15 دن کے اندر قابلِ عمل سفارشات پلاننگ کمیشن کو پیش کرنے کی ہدایت جاری کی۔اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ ہندوکش ہمالیہ ریجن میں 2011ء سے 2020ء کی دہائی کے دوران برف پگھلنے کی شرح میں 65 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، سیاچن گلیشیئر سالانہ 50 سے 60 میٹر کی رفتار سے پگھل رہا ہے جبکہ ہمالیہ کے پہاڑوں میں برف پگھلنے کی شرح 30 میٹر سالانہ تک پہنچ چکی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔