جماعت اسلامی نے بلدیاتی اداروں کے قیام سے متعلق صدارتی آرڈیننس عدالت میں چیلنج کردیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
جماعت اسلامی نے اسلام آباد میں بلدیاتی اداروں کے قیام کے لیے جاری کیا گیا صدارتی آرڈیننس کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مستحکم بلدیاتی ادارے اور 18ویں ترمیم
امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ صدارتی آرڈیننس شیڈول کے اعلان کے بعد نافذ کیا گیا، اس لیے اس کی کوئی قانونی بنیاد نہیں بنتی۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کا نیا بلدیاتی نظام، ایک شہر، 3 میئر، کوئی فائدہ ہو گا؟
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ یہ آرڈیننس آئین کی صریح خلاف ورزی ہے، اس بنا پر اسے کالعدم قرار دیا جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسلام آباد ہائیکورٹ بلدیاتی ادارے جماعت اسلامی صدارتی آرڈیننس نصراللہ رندھاوا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد ہائیکورٹ بلدیاتی ادارے جماعت اسلامی صدارتی ا رڈیننس نصراللہ رندھاوا جماعت اسلامی
پڑھیں:
لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
لاہور: بلدیاتی الیکشن کے لیے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی. لاہور میں مجموعی طور پر 433 یونین کونسلز بنائی گئی ہیں۔ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر پنجاب نے لاہورکی یونین کونسل کی حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کردی.فہرست کےمطابق لاہور کو نو ٹاؤن میں تقسیم کیا گیا جس میں راوی ٹاؤن 52، شالیمار میں 72، واہگہ ٹاؤن میں 25 یونین کونسلز قائم کی گئی ہیں۔ماڈل ٹاؤن میں 77، نشتر ٹاؤن میں 40، صدر کینٹ میں 29 یونین کونسل بنائی گئیں، رائے ونڈ سٹی میں 32، لاہور سٹی میں 69 اور علامہ اقبال ٹاؤن میں 37 یونینز بنائی گئیں۔شہری 23 جون تک حلقہ بندیوں پر اعتراضات دائرکرسکتے ہیں. 24 جولائی تک اعتراضات پر فیصلہ سنایا جائےگا. تمام حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست 10اگست 2026 کو جاری ہوگی۔