جماعت اسلامی کا اسلام آباد میں بلدیاتی اداروں سے متعلق صدارتی آرڈیننس ہائی کورٹ میں چیلنج
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: جماعت اسلامی نے وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی اداروں سے متعلق جاری کیے گئے صدارتی آرڈیننس کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے، اس حوالے سے جماعت اسلامی کی جانب سے باقاعدہ آئینی درخواست دائر کی گئی ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری ہونے کے بعد صدارتی آرڈیننس کا اجرا غیر آئینی اور غیر قانونی ہے کیونکہ انتخابی عمل شروع ہونے کے بعد قوانین میں تبدیلی آئین اور جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ مذکورہ آرڈیننس مکمل طور پر آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے اور اس کے ذریعے عوام کے بنیادی جمہوری حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ پیٹیشن میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ بلدیاتی ادارے عوامی نمائندگی کا بنیادی ستون ہیں اور ان میں کسی بھی قسم کی مداخلت جمہوری نظام کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
یہ درخواست امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی ہے، جس میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ صدارتی آرڈیننس کو کالعدم قرار دیا جائے اور بلدیاتی نظام کو آئینی تقاضوں کے مطابق بحال رکھا جائے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے منتخب بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات محدود کرنا اور نظام میں اچانک تبدیلیاں لانا آئین کے آرٹیکل 140-A اور دیگر متعلقہ دفعات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
جماعت اسلامی نے عدالت سے فوری سماعت کی بھی استدعا کی ہے تاکہ بلدیاتی نظام میں پیدا ہونے والے قانونی ابہام اور عوامی سطح پر پھیلنے والی بے چینی کا خاتمہ کیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: صدارتی آرڈیننس جماعت اسلامی اسلام آباد
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔