پنجاب حکومت اور علمائے کرام ، مذہبی تنظیموں کے درمیان مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق چار ماہ تک جاری رہنے والے مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے پر وزارت داخلہ پنجاب نے علمائے کرام اور اتحاد تنظیمات مدارس سے مسلسل چار ماہ تک مذاکرات کریے۔

پنجاب حکومت، علماء کرام اور اتحاد تنظیمات المدارس کے درمیان مدارس کی رجسٹریشن پر اتفاق ہوگیا۔

محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق علماء کرام، اتحاد تنظیمات مدارس کے تحفظات دور ہو گئے اور سب رجسٹریشن پر متفق ہیں، 3 فروری سے مدارس کی رجسٹریشن کا عمل باقاعدہ شروع ہوجائے گا۔

محکمہ داخلہ پنجاب کا کہنا ہے کہ علما کرام اور تنظیمات کی تمام سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے آن لائن فارم ترتیب دیدیا، آن لائن فارم علماء کرام، اتحاد تنظیمات مدارس، محکمہ تعلیم، انڈسٹریز، چیریٹی کمیشن سمیت متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشاورت سے تیار کیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق تمام مدارس آن لائن ڈیٹا فراہم کریں گے کسی کو کسی دفتر جانے کی ضرورت نہیں ہوگی، آن لائن فارم کے زریعے تمام مدارس پنجاب چیریٹی کمیشن سے رجسٹرڈ ہو جائیں گے۔

محکمہ داخلہ پنجاب نے آن لائن فارم کی تیاری کیلئے تمام مکاتب فکر اور جید علماء سے مشاورت کی جس پر سب کے درمیان اتفاق رائے ہوگیا۔ محکمہ داخلہ کے مطابق مدارس کے آئی ٹی عملے کی تربیت جاری ہے، 3 فروری سے رجسٹریشن کا آغاز ہوجائے گا۔ 

اس کے علاوہ محکمہ داخلہ پنجاب اور وفاق المدارس سمیت مکاتبِ فکر سے بھی مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے پر مشاورت مکمل ہوگئی۔ 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: محکمہ داخلہ پنجاب مدارس کی رجسٹریشن اتحاد تنظیمات آن لائن فارم کے مطابق

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے