پیپلزپارٹی کا مطالبہ تسلیم، اسپیشل اکنامک زون آرڈیننس واپس
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک) حکومت نے پیپلز پارٹی کا اسپیشل اکنامک زون (ایس ای زیڈ) آرڈیننس واپس لینے کا مطالبہ تسلیم کر لیا۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے آرڈیننس کی واپسی کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے بھجوائی گئی سمری کی منظوری دے دی۔
صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون و انصاف نے اسپیشل اکنامک زون آرڈیننس واپس لینے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
ذرائع کے مطابق آرڈیننس کی واپسی سے متعلق فیصلہ سیاسی مشاورت کے بعد کیا گیا۔ جسے پیپلزپارٹی کی جانب سے ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ پیپلز پارٹی نے صدر مملکت کے دستخط کے بغیر اسپیشل اکنامک زونزآرڈیننس جاری کرنے پر احتجاجاً قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کیا تھا۔
پیپلز پارٹی رہنما نوید قمر کا کہنا تھا کہ قانون سازی اس ایوان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ لیکن پہلی مرتبہ حکومت نے ایک ایسا آرڈیننس نافذ کر دیا۔ جو صدر کی توثیق کے بغیر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس قانون کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور اس صورتحال میں وہ ایوان کا حصہ نہیں رہیں گے۔
پیپلز پارٹی کے اعتراض پر حکومت نے آرڈیننس واپس لینے کے لیے صدر کو خط لکھ کر آرڈیننس واپس لینے کا مشورہ دیا تھا۔ اور کہا کہ مذکورہ آرڈیننس کو اب بل کی صورت میں پارلیمنٹ میں لایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
سٹی 42 : آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات میں استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔
استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر و سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان طویل ملاقات کے بعد مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کے بعد بھی باہمی سیاسی تعاون، مشاورت اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
کن انتخابی حلقوں میں کس جماعت کے امیدوار کی حمایت کی جائے گی، اس کا حتمی فیصلہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد اعلان کرے گی۔
دونوں قائدین نے مسلح افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کو ملک میں امن کے قیام، مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی، مسئلہ کشمیر سمیت اہم امور پر جاندار موقف دنیا کے سامنے ٹھوس طریقے سے سامنے لانے پر خراج تحسین پیش کیا.