راجہ شہزاد اسلم کے صاحبزادے راجہ احمد شہزاد رشتہ ازدواج میں منسلک
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
راجہ شہزاد اسلم کے صاحبزادے راجہ احمد شہزاد رشتہ ازدواج میں منسلک WhatsAppFacebookTwitter 0 14 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز) اسلام آباد کی معروف کاروباری شخصیت راجہ شہزاد اسلم آف پنڈ دادنخان کے صاحبزادے راجہ احمد شہزاد رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے۔ شادی کی استقبالیہ تقریب یہاں اسلام آباد میں ہوئی جس میں سابق وفاقی وزیر فوادچوہدری، ایم این اے انجم عقیل خان، سابق ایم این اے راجہ اسد افضل، سابق ایم پی اے ملک جاوید اعوان، عامر ہیراج، سیاسی رہنماوں ملک مظہر اعوان، عامر خان، راجہ محمد علی خان، راجہ طالب مہدی اور دیگر سیاسی، سماجی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر راجہ شہزاد اسلم نے تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایران پر امریکی حملہ رکوانے کیلئے 3عرب ممالک میدان میں آگئے، ٹرمپ سے رابطے ایران پر امریکی حملہ رکوانے کیلئے 3عرب ممالک میدان میں آگئے، ٹرمپ سے رابطے ایران کی سعودیہ، قطر، امارات میں امریکی فوجی اڈے تباہ کرنے کی جوابی دھمکی پنجاب حکومت کا ماحول دوست اقدام، سرکاری محکموں میں پیٹرول و ڈیزل گاڑیوں پر پابندی عائد آٹھ فروری کی کال عمران خان کی نہیں اپوزیشن اتحاد کی ہے، علیمہ خان ممکنہ امریکی حملے کا خدشہ، بھارت نے اپنے تمام شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت کر دی ایران میں موجود پاکستانی شہریوں اور طلبہ کیلئے وزارت خارجہ میں کوآرڈینیشن و مانیٹرنگ سیل قائمCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔