ٹرمپ انتظامیہ کی بڑی پابندی، 75 ممالک کے شہریوں کی ویزہ پراسیسنگ معطل
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
واشنگٹن(ویب ڈیسک) امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ 21 جنوری سے 75 ممالک کے شہریوں کی ویزہ پراسیسنگ کو عارضی طور پر معطل کر دے گی۔
امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ مذکورہ ممالک کے شہری امریکہ کے مختلف ویزہ پروگرامز کے تحت ویزہ حاصل کرنے کیلئے درخواست نہیں دے سکیں گے۔
متاثرہ ممالک میں روس، ایران، افغانستان، برازیل اور تھائی لینڈ سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ یہ اقدام نیا قومی سلامتی پروگرام اور امیگریشن پالیسی کے تحت کیا جا رہا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ویزہ پابندی کی مدت اوراس کے اثرات پرآئندہ تفصیلی ہدایات جاری کی جائیں گی اور متاثرہ افراد کو سہولت فراہم کرنے کے لیے اضافی اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔