امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر ممکنہ حملے سے متعلق ایک مفصل رپورٹ پیش کی ہے جس میں اہداف تک کی نشاندہی کی گئی ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق پینٹاگون نے صدر ٹرمپ کو جو اہداف دیئے ہیں ان میں ایران کی جوہری تنصیبات اور بیلسٹک میزائل کے مراکز شامل ہیں۔

علاوہ ازیں پینٹاگون نے ایک اور آپشن سائبر حملے کا بھی دیا ہے جس پر غور کیا جا سکتا ہے جب کہ امریکی بحریہ کو پہلے ہی ہائی الرٹ کردیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق پینٹاگون نے صدر ٹرمپ کو وسیع نوعیت کے فوجی منصوبے بریف کیے ہیں تاہم امریکی حکام کے بقول براہِ راست بڑے فوجی حملے کے بجائے محدود کارروائیاں زیادہ قابلِ عمل سمجھی جا رہی ہیں۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسم کا حملہ کم از کم چند دن دور ہے تاہم اگر ایسا قدم اٹھایا گیا تو اس کے نتیجے میں ایران کی جانب سے سخت اور بھرپور جوابی کارروائی کا خدشہ موجود ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی فوجی حکام کے مطابق اس وقت امریکی بحریہ کے تین میزائل فائر کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ڈسٹرائر جہاز مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں موجود ہیں۔ ان میں سے ایک جنگی جہاز یو ایس ایس روزویلٹ حالیہ دنوں میں بحیرۂ احمر میں داخل ہوا ہے۔

اس کے علاوہ امریکی بحریہ کا کم از کم ایک میزائل بردار آبدوز بھی خطے میں تعینات ہے، جس کی تصدیق پینٹاگون کے حکام نے کی ہے۔ ان تعیناتیوں کو ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں دباؤ اور دفاعی تیاری کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو وہ خطے میں امریکی مفادات اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا، جبکہ خلیجی ممالک کسی بھی فوجی تصادم کے ممکنہ اثرات کے پیشِ نظر سفارتی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پینٹاگون نے کے مطابق ٹرمپ کو

پڑھیں:

آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو

امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔

مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔

وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔

مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان