امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری؟ قطر بیس پر ہلچل؛ کئی ممالک نے شہریوں کو واپس بلالیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کے پیش نظر متعدد ممالک نے حفاظتی اقدامات اور احتیاطی تدابر اپناتے ہوئے اپنے سفارت خانوں اور شہریوں کے لیے الرٹ جاری کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران میں 28 دسمبر سے جاری شدید عوامی احتجاجی تحریک کے دوران امریکا کی انٹری سے حالات میں خطرناک حد تک کشیدگی بڑھ گئی۔
رائٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قطر میں قائم امریکا کے سب سے بڑے فوجی اڈے العدید پر تعینات بعض امریکی فوجی افسران کو آج شام تک فوجی اڈّہ چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے تین سفارتی ذرائعوں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ اقدام احتیاطی نوعیت کا ہے۔ جس کا مطلب امریکی بیس سے فوجیوں کا باضابطہ انخلا نہیں۔
ایک سفارتی ذرائع نے رائٹرز کو یہ بھی بتایا کہ یہ محض فوجی پوزیشن میں تبدیلی ہے کسی ہنگامی انخلا کا حکم جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی مخصوص خطرے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ العدید ایئربیس مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے جہاں تقریباً 10 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔
قطر کی وزارتِ خارجہ نے اس پیش رفت پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
امریکی سفارتی ذرائعوں کے اس واضح مؤقف کے باوجود ایران پر حملے کے خدشات کم نہیں ہوئے ہیں جو صدر ٹرمپ کی گزشتہ روز دی گئی دھمکیوں سے بڑھ گئے تھے۔
صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ہم اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں فوج بھی اس پر غور کر رہی ہے اور ہمارے پاس بہت مضبوط آپشنز موجود ہیں۔
برطانیہ سمیت متعدد ممالک کی ایران میں اپنے شہریوں کیلیے الرٹ جاری
برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور یورپی ممالک نے اپنے شہریوں کو ایران میں محتاط رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ فوری وطن واپس آنے کی کوشش کریں اور کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں سفارت خانے سے رابطے میں رہیں۔
بھارت کا اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ
ایران میں بگڑتی صورتحال کے پیشِ نظر بھارت نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
تہران میں بھارتی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ ایران میں “بدلتی ہوئی صورتحال” کے باعث بھارتی شہری ملک چھوڑ دیں۔
بیان میں بھارتی شہریوں کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتہائی محتاط رہیں، احتجاجی علاقوں سے دور رہیں اور مقامی صورتحال پر کڑی نظر رکھیں۔
پاکستانی طلبہ کی وطن واپسیایران میں جاری بدامنی کے باعث پاکستانی طلبہ کی واپسی کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ تقریباً 60 پاکستانی طلبا ایران سے جنوبی بلوچستان کے دور دراز گبد (Gabd) بارڈر کراسنگ کے ذریعے وطن لوٹے۔
ایران میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے کہا ہے کہ ایرانی جامعات نے امتحانات ری شیڈول کر دیے ہیں اور غیر ملکی طلبا کو عارضی طور پر وطن واپس جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
اسرائیل سمیت اتحادی ممالک کا امریکا کو مشورہ
امریکا کے ایران پر ممکنہ بڑے فوجی حملے پر اسرائیل سمیت متعدد اتحادی ممالک نے صدر ٹرمپ کو مشورہ دیا کہ ابھی ساری توجہ ایرانی حکومت کو کمزور سے کمزور تر بنانے پر مرکوز رکھی جائے۔
امریکا کے اتحادی ممالک نے خبردار کیا کہ ایرانی حکومت کو مزید کمزور کیے بغیر کی جانے والی کوئی بڑی فوجی کارروائی نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایرانی مظاہرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملکی اداروں کا کنٹرول حاصل کرلیں، مدد بس پہنچنے والی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے شہریوں کو اپنے شہریوں امریکا کے ایران میں ایران پر ممالک نے گئی ہے
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔