واٹر ٹینکر اور ہائیڈرنٹس بند کرنے کا بیان، میئر کراچی نے چند گھنٹوں میں واپس لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے واٹر ٹینکر اور ہائیڈرنٹس بند کرنے سے متعلق اپنا بیان چند گھنٹوں کے اندر ہی واپس لے لیا ہے۔
میئر کراچی نے ضلع وسطی کی اہم شاہراہ جہانگیر روڈ کی ازسرِنو تعمیر کے سنگِ بنیاد کی تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے بعض علاقوں میں شہری 90 سے 10 دن تک پانی نہ ملنے کی شکایت کرتے ہیں جبکہ کچھ علاقوں میں روزانہ پانی آتا ہے اور اتنی مقدار میں آتا ہے کہ گاڑیاں تک دھوئی جاتی ہیں، پانی کی یہ غیر منصفانہ تقسیم ناانصافی کی عکاس ہے۔
میئر کراچی کا کہنا تھا کہ ٹینکر سروس کوئی نئی چیز نہیں بلکہ یہ برسوں سے جاری ہے اور جہاں لائن کا پانی نہیں پہنچتا وہاں ٹینکرز کے ذریعے پانی فراہم کیا جاتا ہے، شہر میں واٹر بورڈ کے سات ہائیڈرنٹس کی مدت ختم ہو چکی ہے اور ہائیڈرنٹس کا ٹھیکہ دو سال کے لیے ہوتا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ اس حوالے سے فیصلہ یہ کرنا تھا کہ نئے ٹھیکے دیے جائیں، توسیع کی جائے یا ہائیڈرنٹس بند کر دیے جائیں، انہوں نے واٹر کارپوریشن کو ہدایت کی ہے کہ پہلے پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے جامع حکمتِ عملی تیار کی جائے، اس کے بعد ہی ہائیڈرنٹس یا واٹر ٹینکر سروس بند کرنے سے متعلق کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ساتوں ہائیڈرنٹس کی فوری ٹینڈرنگ روک دی گئی ہے اور واٹر کارپوریشن کا پروپوزل سٹی کونسل میں پیش کیا جائے گا، اگر ہائیڈرنٹس مکمل طور پر بند کر دیے جائیں تو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ جن علاقوں میں لائن کا پانی نہیں پہنچتا وہاں ٹینکر کے بغیر پانی کیسے فراہم کیا جائے گا۔
میئر کراچی کے مطابق 23 جنوری کو واٹر کارپوریشن کی بورڈ میٹنگ ہوگی جس میں ٹینکر سروس اور ہائیڈرنٹس کی بندش سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اور ہائیڈرنٹس کیا جائے گا میئر کراچی ہے اور
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔