پی ایس ایل ٹیم ملتان کی نیلامی کا اعلان، سرمایہ کاروں کی دلچسپی عروج پر
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان کرکٹ بورڈ نے پاکستان سپر لیگ میں شامل ٹیم ملتان کی نیلامی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق پی سی بی کی جانب سے اس حوالے سے باقاعدہ اشتہار بھی جاری کیا گیا ہے، جس میں دلچسپی رکھنے والے سرمایہ کاروں اور کاروباری گروپس کو نیلامی کے عمل میں حصہ لینے کی دعوت دی گئی ہے۔
پی سی بی کے مطابق ٹیم ملتان خریدنے کے خواہشمند فریقین 30 جنوری تک اپنی مالی بولیاں جمع کرا سکتے ہیں۔ اس کے بعد اسی روز جمع کرائی گئی بولیوں کی تکنیکی جانچ پڑتال مکمل کی جائے گی، جس کے بعد حتمی بڈرز کی فہرست جاری کی جائے گی۔ بورڈ حکام کا کہنا ہے کہ شفاف اور مسابقتی نیلامی کے ذریعے ٹیم کی فروخت کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ لیگ کی مالی قدر میں مزید اضافہ ہو سکے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کو ٹیم ملتان کی فروخت سے بھی غیر معمولی آمدن کی توقع ہے، جیسا کہ حال ہی میں دیگر ٹیموں کی نیلامی کے دوران دیکھنے میں آیا۔ پی ایس ایل کی ٹیم حیدرآباد ایک ارب 75 کروڑ روپے میں فروخت ہوئی تھی جب کہ سیالکوٹ کی ٹیم ایک ارب 50 کروڑ روپے میں نیلام کی گئی، جس نے لیگ کی مجموعی ویلیو کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا۔
ابتدائی طور پر پی سی بی نے اعلان کیا تھا کہ وہ ملتان سلطانز کو خود چلائے گا، تاہم سرمایہ کاروں کی جانب سے غیر معمولی دلچسپی سامنے آنے کے بعد بورڈ نے پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے اس ٹیم کو بھی نیلام کرنے کا فیصلہ کیا۔ کرکٹ حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ لیگ کو مزید مضبوط اور خودمختار بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
ماہرین کے مطابق پی ایس ایل کی بڑھتی ہوئی مقبولیت، نشریاتی حقوق، اسپانسرشپ اور اسٹیڈیم میں شائقین کی دلچسپی نے لیگ کو خطے کی ایک بڑی کرکٹ پراپرٹی بنا دیا ہے، جس کے باعث سرمایہ کار اب اسے طویل المدتی کاروباری موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ پی سی بی کا مؤقف ہے کہ نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم ملکی کرکٹ کے ڈھانچے، نچلی سطح پر ٹیلنٹ کی ترقی اور انفر ااسٹرکچر پر خرچ کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹیم ملتان کے مطابق پی سی بی
پڑھیں:
کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
اسلام آباد،اوورسیز چیمبر آف کامرس سروے (overseas chamer commerce)میں بتایا گیا کہ پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور ہوگیا، 70 سے 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر ہوئے۔
سروے میں بتایا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9 فیصد پوائنٹس کمی سے مثبت 13 فیصد رہ گیا، خدمات کے شعبے میں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔
اوورسیز چیمبر سروے کے مطابق مینوفیکچرنگ کے شعبے میں کاروباری اعتماد 7 پوائنٹس کم ہوگیا، صرف ریٹیل سیکٹر میں کاروباری اعتماد 3 پوائنٹس اضافے سے مثبت 20 فیصد ہوگیا۔
مزید پڑھیں:سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ نئی سرمایہ کاری انڈیکس 10 پوائنٹس کمی سے صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا۔