کھلاڑیوں کے خلاف توہین آمیز ریمارکس، بنگلہ دیشی کرکٹرز کا ڈائریکٹر کرکٹ بورڈ کے استعفیٰ کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
بنگلہ دیش کے کرکٹرز نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے ڈائریکٹر ایم ناظم الاسلام نے استعفیٰ نہ دیا تو وہ کل سے ہر قسم کی کرکٹ کا بائیکاٹ کریں گے۔
یہ اعلان کرکٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن آف بنگلہ دیش (سی ڈبلیو اے بی) کے صدر محمد مٹھن نے پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
مزید پڑھیں: ڈائریکٹر بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا متنازعہ بیان، تمیم اقبال کے حامیوں کے احتجاجی مظاہرے
ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ایم ناظم الاسلام کی جانب سے کرکٹرز کے بارے میں دیے گئے ایسے بیانات کے خلاف احتجاجاً کیا گیا ہے جنہیں کھلاڑیوں نے ناقابل قبول اور دل آزاری قرار دیا ہے۔
محمد مٹھن نے واضح کیاکہ اگر مقررہ وقت تک استعفیٰ نہ دیا گیا تو تمام کھلاڑی ہر سطح کی کرکٹ کا بائیکاٹ کریں گے۔
اس تنازعے نے اس وقت شدت اختیار کی جب بی سی بی کی فنانس کمیٹی کے چیئرمین ایم ناظم الاسلام سے بھارت میں ہونے والے آئندہ آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کی ممکنہ عدم شرکت سے متعلق سوال کیا گیا۔
اس پر انہوں نے کہاکہ بورڈ کھلاڑیوں پر کروڑوں ٹکا خرچ کرتا ہے، اگر یہ پرفارم نہیں کرتے تو کیا یہ رقم ان سے واپس لی جانی چاہیے۔
اس سے قبل ایم ناظم الاسلام کو اس وقت بھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جب انہوں نے سوشل میڈیا پر سابق قومی کپتان تمیم اقبال کے بارے میں ایک توہین آمیز سیاسی اصطلاح استعمال کی تھی۔
سی ڈبلیو اے بی کے مطابق ایک سینیئر بورڈ عہدیدار کی جانب سے اس قسم کی زبان پورے کرکٹ حلقے کے لیے نہایت توہین آمیز اور نقصان دہ ہے۔
محمد مٹھن نے کہاکہ ایسے الفاظ کسی صورت قابل قبول نہیں ہیں۔ ان کے مطابق پہلے یہ زبان ایک فرد کے خلاف استعمال کی گئی اور اب تمام کھلاڑیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ایک ڈائریکٹر کو اپنے الفاظ کے استعمال میں انتہائی محتاط ہونا چاہیے کیونکہ ان کے بیانات سے پوری کرکٹ برادری کو دکھ پہنچا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ، بھارت میں محفوظ نہیں، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ٹیم بھیجنے سے انکار کردیا
دوسری جانب بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ایک وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ڈائریکٹر کی ذاتی آرا بورڈ کے سرکاری مؤقف کی نمائندگی نہیں کرتیں۔
تاہم سی ڈبلیو اے بی نے اپنا مؤقف برقرار رکھتے ہوئے کہا ہے کہ کھلاڑیوں کے وقار اور کھیل کی روح کے تحفظ کے لیے ایم ناظم الاسلام کا استعفیٰ ناگزیر ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews استعفے کا مطالبہ بنگلہ دیش ڈائریکٹر کرکٹ بورڈ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: استعفے کا مطالبہ بنگلہ دیش ڈائریکٹر کرکٹ بورڈ وی نیوز بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ ایم ناظم الاسلام
پڑھیں:
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔
انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔