ڈار کےوزیر خزانہ بننےسےملک ڈیفالٹ تک پہنچا،زبیر عمر
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور:سابق گورنر سندھ کے مطابق عمران خان حکومت کے خاتمے سے قبل 17.2 ارب ڈالرز ذخائر تھے ، پاکستان تب نہیں اسحاق ڈار کے وزیر خزانہ بننے کے بعد جون 2023 میں ڈیفالٹ کے دہانے پر پہنچا جب زرمبادلہ ذخائر صرف 2.9 ارب ڈالر رہ گئے تھے۔
سابق گورنر سندھ اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما محمد زبیرعمر کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی وجہ سے لک ڈیفالٹ کے دہانے پر گیا۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اپریل 2022 میں نہیں بلکہ جون 2023 میں ڈیفالٹ کے دِہانے پر پہنچا تھا، اسکی وجہ تھی اسحاق ڈار جب وہ ستمبر 2022 میں وزیرخزانہ بنے تھے تو انہوں نے اعلانیہ آئی ایم ایف کو یہاں سے بھگایا تھا اور پھر جون 2023 تک زرمبادلہ کے ذخائر صرف 2.
9 ارب ڈالر رہ گئے۔
جنوری 2022 میں جو ذخائر 17.2 ارب ڈالر تھے وہ کم ہو کر جون 2023 میں 2.9 ارب ڈالر رہ گئے تھے۔اپنے ایک اور بیان میں سابق گورنر سندھ اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سینئر رہنما محمد زبیر نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز حکومت کے سفارتی کامیابی کے دعوﺅں کی قلعی کھول دی۔
محمد زبیر نے کہا کہ “پاکستانیوں کو دبئی کا ویزہ نہیں ملتا اور حکومت کہہ رہی ہے عزت بڑھ گئی ہے، میں سابق گورنر ہوں، مجھے آرام سے ویزہ نہیں مل سکتا، 4 سال پہلے ہر کسی کو ویزہ مل جاتا تھا۔”
ویب ڈیسک
Faiz alam babar
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سابق گورنر ارب ڈالر
پڑھیں:
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
گزشتہ تین ہفتوں سے تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ آج کی ٹریڈنگ کے دوران برینٹ آئل کی قیمت میں اب تک تقریباً 6.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی سطح سے تجاوز کر گئی۔ عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق گزشتہ تین ہفتوں سے تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ آج کی ٹریڈنگ کے دوران برینٹ آئل کی قیمت میں اب تک تقریباً 6.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ایران اور خطے کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری نقل و حمل متاثر ہونے اور دوبارہ بندش کے خدشات نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا، جس کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔