جدید دور میں طبِ یونانی کی اہمیت اور بحالی وقت کی ضرورت ہے، مقررین
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) قاسمی ایجوکیشنل سوسائٹی اور پاکستان طبی کانفرنس سندھ کے زیرِ اہتمام مقامی ہوٹل میں “طبِ یونانی اور روایتی طب کی اہمیت” کے موضوع پر سیمینار منعقد ہوا۔ تقریب کی صدارت حکیم منصور العزیز نے کی جبکہ مہمانِ خصوصی سی ای او سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن ڈاکٹر احسن قوی صدیقی تھے۔ مقررین نے جدید تحقیق اور اطباء کے اتحاد پر زور دیتے ہوئے مجوزہ “NTCAM 2025” ڈرافٹ بل کو مسترد کر دیا۔ڈاکٹر احسن قوی نے کہا کہ کمیشن حکماء کی پریکٹس کو ریگولیٹ کرنے میں تعاون کرے گا۔ حکیم مختار برکاتی اور حکیم منور شیخ نے اطباء کو جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی قیادت میں متحد رہنے کی ترغیب دی۔ حکیم نسیم قاسمی نے حکومت سے سرکاری سطح پر یونانی اسپتالوں کے قیام کا مطالبہ کیا۔ تقریب کے اختتام پر بہترین خدمات پر طبیبہ سارہ رحمان اور دیگر شرکاء میں شیلڈز تقسیم کی گئیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔