بنگلادیش نے سرحدی کشیدگی پر میانمر کے سفیر کو طلب کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈھاکا (انٹرنیشنل ڈیسک) بنگلا دیش نے میانمر میں جاری خانہ جنگی کے اثرات سرحد پار پہنچنے پر میانمر کے سفیر کو طلب کر لیا ۔ سرحدی جھڑپوں کے دوران فائرنگ سے ایک بنگلا دیشی بچی زخمی ہو گئی۔ڈھاکا حکام کے مطابق میانمر کی ریاست راکھائن میں فوج، اراکان آرمی اور اراکان روہنگیا سالویشن آرمی کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے، جس کے باعث بنگلا دیش کے ضلع کاکسس بازار کے کم از کم ایک درجن دیہات متاثر ہوئے ہیں۔ سرحد پار فائرنگ کے نتیجے میں 12 سالہ حذیفہ افنان گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گئی، جبکہ ایک بنگلا دیشی ماہی گیر سرحد کے قریب بارودی سرنگ پر پاؤں پڑنے سے اپنی ٹانگ سے محروم ہو گیا۔ بنگلا دیش کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سرحد پار بلااشتعال فائرنگ بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی اور ہمسایہ ممالک کے تعلقات کے لیے نقصان دہ ہے۔ منگل کے روز میانمر کے سفیر یو کیاؤ سوئے موئے کو وزارت خارجہ طلب کیا گیا، جہاں انہوں نے زخمیوں اور ان کے اہلِ خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ زخمی بچی کے والد جاسم الدین نے بتایا کہ ان کی بیٹی اسکول جانے والی تھی تاہم اب وینٹی لیٹر پر ہے اور یہ صدمہ ان کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔
چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔