کراچی، پولیس کا ڈبل ایکشن، 35 چوری شدہ موٹر سائیکلیں اور موبائل فونز چھیننے والے نیٹ ورکس بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
کراچی:
شہر قائد میں عوامی کالونی پولیس نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بڑی کارروائیاں کرتے ہوئے شہر میں سرگرم منظم چور گروہوں کو زبردست دھچکا دے دیا۔
پولیس نے گرفتار ملزم کی نشاندہی پر الیاس گوٹھ میں قائم ایک خفیہ گودام پر چھاپہ مار کر چوری کی گئی 35 موٹر سائیکلیں برآمد کرلیں۔
پولیس کے مطابق برآمد ہونے والی موٹر سائیکلوں میں 27 مکمل اور درست حالت میں جبکہ 8 موٹر سائیکلیں پارٹس کی صورت میں موجود تھیں، جو منظم نیٹ ورک کی نشاندہی کرتی ہیں۔
ایس ایچ او عوامی کالونی ملک عامر نے بتایا کہ یہ کارروائی مبینہ مقابلے کے بعد گرفتار ہونے والے ملزم کی اطلاع پر کی گئی، جس کا تعلق ایک بین الصوبائی چور گروہ سے ہے۔
مزید پڑھیںکراچی؛ بھتہ نہ دینے پر فیکٹری نذرآتش کرنے کی دھمکی، دو ملزمان گرفتار
کراچی کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، دو ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
دوسری جانب عوامی کالونی پولیس نے ایک اور بڑی کارروائی کے دوران چوری اور چھینے گئے موبائل فونز کے آئی ایم ای آئی نمبر تبدیل کرنے والے 3 رکنی گروہ کو گرفتار کر کے 37 موبائل فونز بھی برآمد کرلیے۔
گرفتار افراد میں ایک خطرناک ڈاکو، ایک موبائل دکاندار اور ایک سوفٹ ویئر ماہر شامل ہے، جو جدید طریقوں سے موبائل فونز کو ناقابلِ شناخت بنا کر فروخت کرتے تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے اور اہم انکشافات متوقع ہیں، جبکہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جا سکتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: موبائل فونز
پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔
گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔