data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (کامرس رپورٹر) سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کراچی کے صدر احمد عظیم علوی نے صنعتی بجلی کے نرخوں پر مسلسل کراس سبسڈی کے بوجھ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پالیسی صنعتوں کی بقا کو کمزور کر رہی ہے اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری و ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ صنعتی ٹیرف پر فی یونٹ 4.

5 سے 7 روپے تک کراس سبسڈی عائد ہے جس سے بجلی کی لاگت میں تقریباً 20 فیصد اضافی بوجھ شامل ہو جاتا ہے جبکہ صنعتیں اپنی اصل لاگت ہی مشکل سے برداشت کر پا رہی ہے اور یہ اضافی بوجھ کئی یونٹس کو بند کرنے کے قریب لے آیا ہے۔ ایک بیان میں احمد عظیم علوی نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں چھوٹے صنعتی یونٹس کی تعداد تو بہت زیادہ ہے لیکن توانائی کیزائد قیمتوں کے باعث ملک بڑی صنعتیں قائم کرنے اور اسے برقرار رکھنے میں ناکام رہا ہے۔ایسی پالیسیاں جو کھپت اور توسیع کو سزا دیتی ہیں فطری طور پر صنعتوں کو بڑے پیمانے پر بڑھنے اور مؤثر انداز میں چلنے سے روک دیتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ برسوں میں پروٹیکٹڈ کنزیومرزکی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے لیکن حکومت انہیں مالی گنجائش سے سہارا دینے کے بجائے صنعتوں کو بطور توازن استعمال کر رہی ہے جو نہ پائیدار ہے اور نہ ہی منصفانہ خاص طور پر جب صنعتیں پہلے ہی مکمل اور بروقت ادائیگی کرتی ہے۔ انہوں نے انکریمنٹل کنزمپشن پیکیج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسکیم بنیادی طور پر ناقص اور اندرونی تضادات سے بھری ہوئی ہے وہ صنعتیں جنہوں نے دسمبر 2023 سے نومبر 2024 کے دوران زیادہ بجلی استعمال کی انہیں نااہل قرار دے دیا گیا ہے حالانکہ وہ مستحکم اور حقیقی طلب کی نمائندگی کرتی ہیں۔صدر سائٹ ایسوسی ایشن نے واضح کیا کہ پیکیج میں شامل لوڈ فیکٹرز کا کوئی ریگولیٹری یا تکنیکی جواز نہیں ہے اور یہ زیادہ تر چوری اور ڈیٹیکشن بلنگ کے فریم ورک سے لیے گئے لگتے ہیں جو نفاذ کے لیے ہوتے ہیں نہ کہ مراعات کے لیے یہ خامی پیکیج کے اصل مقصد کو مکمل طور پر بے اثر کر دیتی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ جس انداز میں یہ پیکیج بنایا گیا ہے اس سے طلب میں اضافہ نہیں ہوگا بلکہ صنعت کے اندر صرف طلب کی منتقلی ہوگی جس سے مصنوعی طور پر کچھ کو فائدہ اور کچھ کو نقصان پہنچے گا اور کھپت کے رجحانات مزید بگڑ جائیں گے۔ احمد عظیم علوی نے وزارت پاور کے بار بار دعوؤں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی کارکردگی بہتر ہوئی ہے تو صنعتی ٹیرف تقریباً 9 سینٹ فی یونٹ تک لایا جا سکتا تھا۔ اس طرح کے ٹیرف کی عدم موجودگی ان دعوؤں اور زمینی حقائق کے درمیان فرق کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر صنعتی بجلی کے نرخوں سے کراس سبسڈی ختم کی جائے، موجودہ ناقص انکریمنٹل پیکیج واپس لیا جائے اور مراعات کو شفاف اور معقول اصولوں پر دوبارہ ڈیزائن کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی بحالی، برآمدات میں اضافہ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کھپت کو سزا اور نااہلی کو انعام دینے والی پالیسیوں کو درست نہ کیا جائے بصورت دیگر پالیسی اعلانات حقیقی معاشی نتائج دینے میں ناکام رہیں گے۔

کامرس رپورٹر گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کراس سبسڈی انہوں نے ہے اور رہی ہے کہا کہ

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم