ایران پر حملہ یا اقدام خودکشی
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایران ابھی ٹوٹنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ طویل عرصے سے اسرائیل اور امریکا کی سازشوں نے عوام کو چو کنا کردیا ہے۔ وہ مہنگائی اور کرنسی کی قیمت گرجانے اور زندگی کے توازن کھو جانے پر پریشان ضرور ہیں اور شدت سے برسر احتجاج ہیں لیکن امریکا اور اسرائیل کو اپنی سرزمین پر اُترنے اور استیصال کرنے کا موقع دیں! ایسا ممکن نہیں۔ وہ ایران کو بچانے کی کوئی راہ ڈھونڈ لیں گے۔
ایران میں حالات دگر گوں ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ پچھلے پندرہ بیس برسوں میں یہاں متعدد مرتبہ حالات بے قابو ہوئے ہیں۔ 2005 سے 2025-26 کے دوران ایران میں بارہا بڑے احتجاجات، ہنگامے اور عوامی مظاہرے ہوچکے ہیں۔ سماجی، معاشی اور سیاسی وجوہات جن کے پیچھے رہی ہیں۔ 2009 کی ’’سبز تحریک‘‘ جو انتخابی دھاندلی کے خلاف تھی جس کا نعرہ تھا ’’میرا ووٹ کہاں ہے‘‘۔ مشہد سے آغاز ہونے والے 2017-18 کے ہنگامے جن کی بنیادی وجہ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بدحالی تھی جو پورے ملک میں پھیل گئے تھے جس میں پہلی بار براہ راست سپریم لیڈر اور مذہبی نظام کے خلاف نعرے لگائے گئے تھے۔ نومبر 2019 میں پٹرول کی قیمتوں میں اچانک ہونے والے اضافے پر یہ احتجاج انتہائی پرتشدد تھے۔ بعض رپورٹوں کے مطابق جن میں ڈیڑھ ہزار کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 2022 میں حجاب کے معاملے پر مہسا امینی کی دوران حراست موت نے پورے ملک میں آگ لگا دی تھی۔ یہ احتجاج پچھلے احتجاجوں سے اس اعتبار سے مختلف تھا کہ اس کی قیادت خواتین اور نوجوان نسل (Gen Z) کررہی تھی اور یہ براہ راست نظریاتی بنیادوں پر تھے۔ اور اب 2025-26 کے موجودہ معاشی اور سیاسی احتجاج جو 28 دسمبر 2025 سے شروع ہوئے اور پورے ملک میں پھیل چکے ہیں۔
ہنگاموں کے اس تسلسل میں جو وجوہات کافرما ہیں ان میں بنیادی بات یہ ہے کہ ایرانی عوام کا ایک بڑا حصہ، بالخصوص شہروں میں رہنے والے نوجوان موجودہ ایرانی نظام سے شدید نالاں ہیں۔ دہائیوں سے جاری پابندیوں اور اندرونی کرپشن نے معیشت کو تباہ کردیا ہے۔ امریکی پابندیوں کی وجہ سے کرنسی کی قدر میں کمی سے عام آدمی کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ انتخابی عمل میں کڑی پابندیوں نے اصلاح پسندوں کے لیے تمام راستے بند کردیے ہیں۔ طرز زندگی اور سوشل میڈیا کی بے جا اور سخت پابندیاں نوجوان نسل کے لیے ناقابل قبول ہوچکی ہیں۔ اس حد تک کہ اسلامی انقلاب کے ساتھ ساتھ وہ اسلام سے بھی دور ہوتے جارہے ہیں کیونکہ ایران میں اسلام اور ملائوں کی حکومت ایک ہی چیز کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔ نوجوان جب حکومت کی کارکردگی، بے حدو حساب کرپشن اور جبر سے تنگ آتے ہیں تو وہ حکومت کے ساتھ ساتھ اسلام کو بھی اس کا ذمے دار قرار دے دیتے ہیں۔ وہ اسلام کے بجائے فارسی تہذیب وثقافت کو اپنے لیے زیادہ قابل فخر سمجھتے ہیں۔ اسلام کے ساتھ ان کے وہ جذباتی روابط نہیں ہیں جتنے بقیہ اسلامی ممالک کے نوجوانوں کے ہیں۔ ایران اس وقت ایک ایسی نسل کے ساتھ زندہ ہے جو 1979 کے انقلاب سے تقریباً کٹ چکی ہے۔
ایران میں ’’اسلامی تشخص‘‘ اور ’’ایرانی تشخص‘‘ دو الگ الگ مگر باہم مربوط اور جڑی ہوئی چیزیں ہیں۔ ڈھائی ہزار سالہ قدیم ایرانی تہذیب، فارسی زبان اور تاریخ ان کے لیے اس حدتک قابل فخر ہے کہ وہ خود کو صرف ایک مسلم ملک ہی نہیں بلکہ ایک عظیم تہذیب کا وارث بھی سمجھتے ہیں جس کی اہمیت ان کے لیے کسی بھی طور اسلام سے کم نہیں۔ سائرس اعظم اور شاہنامہ کے ہیروان کے لیے اتنے ہی عظیم ہیں جتنے کہ ان کی اسلامی تاریخ کے کردار۔ ایرانی عوام، وہ حکومت کے مخالف ہوں یا حامی وہ کبھی دوسری تہذیبوں (چاہے وہ عرب تہذیب ہو یا مغربی تہذیب) کو برتر تہذیب تسلیم نہیں کرتے۔ وہ مغربی استعمار امریکا اور اسرائیل کے خلاف اتنے ہی حساس ہیں جتنی کہ وہ اپنی خودمختاری اور آزادی کے معاملے میں حساس ہیں۔
حکومت سے ناراضی کے باوجود ایرانی عوام کی اکثریت اپنے ملک پر امریکا یا اسرائیل کا تسلط یا حملہ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایرانیوں کو سیاسی شعور کے اعتبار سے مشرق وسطیٰ ہی کی نہیں دنیا کی سب سے زیادہ باشعور قوموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہاں سیاست ڈرائنگ روم کا نہیں سڑکوں کا موضوع ہے۔ وہاں تعلیم کی شرح بہت بلند اور خواتین میں مردوں سے زیادہ ہے۔ پڑھا لکھا معاشرہ قدرتی طور پر تجزیہ نگار ہوتا ہے۔ ایرانی نوجوانوں کی سوچ بہت گہری ہوتی ہے وہ تاریخ فلسفہ اور عالمی ادب سے گہرا لگائو رکھتے ہیں۔ وہاں کی ٹیکسیوں اور کافی ہائوسزکو منی پارلیمنٹ کہا جاتا ہے۔ ایک عام ایرانی جانتا ہے کہ واشنگٹن میں ہونے والا کوئی فیصلہ یا ویانا میں ہونے والی کانفرنس کس طرح اس کے روزگار کو متاثر کرسکتی ہے۔ کیسے ممکن ہے کہ وہ بھول جائیں کہ 1953 میں کس طرح امریکا اور برطانیہ نے سازش کرکے ان کے جمہوری لیڈر محمد مصدق کا تختہ الٹا تھا۔ صدام حسین نے ایران پر حملہ کیا تھا تو پوری ایرانی قوم نے یک جان ہوکر اس کا مقابلہ کیا تھا۔ کیا ایران کی نوجوان نسل عراق، افغانستان اور لیبیا کے انجام سے آگاہ نہیں ہوگی جمہوریت کے نام پر امریکا نے کس طرح وہاں مداخلت کی اور کیسے ان ممالک کو کھنڈر بنا دیا۔ صدر ٹرمپ، نیتن یاہو اور رضا پہلوی لاکھ اپنے تئیں ایرانی عوام کے خیر خواہ بنیں ایرانی عوام کبھی انہیں اپنا دوست اور خیر خواہ باور نہیں کرسکتے۔ وہ امریکا اور مغرب کی ٹیکنالوجی سے نفرت نہیں کرتے لیکن امریکا کو اپنا سیاسی دشمن سمجھتے ہیں۔
ایرانی عوام اپنی حکومت کے سخت گیر رویوں سے عاجز ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ امریکا اور اسرائیل کے ہاتھوں میں اپنے ملک وقوم کی تقدیر سونپ دیں۔ وہ ایک ایسا ایران چاہتے ہیں جو آزاد ہو، خود مختار ہو اور جدید ہو۔ وہ ایران کو دنیا کی ترقی کے ساتھ چلتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ مذہب کے نام پر گھٹن سے آزادی چاہتے ہیں۔ وہ اپنے نظام کی اصلاح چاہتے ہیں۔ ایران میں ایک بڑا طبقہ وہ ہے جو موجودہ اسلامی ڈھانچے کو نہ صرف برقرار رکھنا چاہتا ہے بلکہ اسے مزید توانا کرنا چاہتا ہے جس کے لیے وہ انسانی حقوق، سماجی آزادی اور معیشت کے اعتبار سے بڑی تبدیلیاں لانا چاہتا ہے۔ وہ اسلامی انقلاب کے اندر انقلاب لانا چاہتے ہیں۔ نوجوان نسل کی صورت میں دوسرا طبقہ وہ ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ موجودہ نظام اتنا سخت ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہیں ہے لیکن وہ بھی بیرونی مداخلت کے بجائے اندرونی تبدیلی پر یقین رکھتا ہے۔ وہ اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنا چاہتے ہیں۔
ایران دنیا کا 17 واں بڑا ملک ہے۔ 16 لاکھ 48 ہزار مربع کلو میٹر۔ عراق سے چار گنا بڑا، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اسپین کو یکجا کردیا جائے تب بھی ان سے بڑا۔ آبادی 9 کروڑ جس میں نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ۔ جغرافیہ ایک قدرتی قلعہ، حملہ آور کے لیے ڈرائونا خواب۔ دفاعی نظام تین حصوں پر مشتمل: ایک پاسداران انقلاب، نظریاتی فورس، غیرروایتی جنگ میں ماہر جس کا اپنا بحری بری اور فضائی انٹیلی جنس نظام ہے جو گوریلا جنگ کے ماہر ہیں۔ دوسری: ایران کے عوامی نیم فوجی ملیشیا جن کی تعداد لاکھوں میں ہے، گلی محلوں سے اُٹھنے والی جس کی مزاحمت کو سنبھالنا کسی غیر ملکی فوج کے لیے ممکن نہیں۔ تیسری: باقاعدہ فوج جدید میزائل ٹیکنالوجی اور دفاعی نظام سے آراستہ۔ ایران پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے امریکا کو کم ازکم دس سے بیس لاکھ فوجیوں کی ضرورت ہوگی جو اس کے پاس دستیاب نہیں۔ ایران آبنائے ہرمز کو بند کرکے دنیا کی معیشت کو تباہ کرسکتا ہے۔ ایرانی عوام اپنی حکومت سے کتنے ہی ناراض ہوں امریکی حملے کی صورت میں وہ یک جان ہوکر بیرونی حملہ آور کے مقابل ہوں گے۔ امریکا اور اسرائیل ایرانی تنصیبات پر فضائی حملے کرسکتے ہیں، معاشی طور پر کمزور کرسکتے ہیں، سازشیں کرسکتے ہیں لیکن اس پر حملہ… خودکشی کے سوا کچھ نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امریکا اور اسرائیل ایرانی عوام نوجوان نسل چاہتے ہیں ایران میں کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔