Jasarat News:
2026-07-24@04:04:30 GMT

ایران پر حملہ یا اقدام خودکشی

اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ایران ابھی ٹوٹنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ طویل عرصے سے اسرائیل اور امریکا کی سازشوں نے عوام کو چو کنا کردیا ہے۔ وہ مہنگائی اور کرنسی کی قیمت گرجانے اور زندگی کے توازن کھو جانے پر پریشان ضرور ہیں اور شدت سے برسر احتجاج ہیں لیکن امریکا اور اسرائیل کو اپنی سرزمین پر اُترنے اور استیصال کرنے کا موقع دیں! ایسا ممکن نہیں۔ وہ ایران کو بچانے کی کوئی راہ ڈھونڈ لیں گے۔

ایران میں حالات دگر گوں ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ پچھلے پندرہ بیس برسوں میں یہاں متعدد مرتبہ حالات بے قابو ہوئے ہیں۔ 2005 سے 2025-26 کے دوران ایران میں بارہا بڑے احتجاجات، ہنگامے اور عوامی مظاہرے ہوچکے ہیں۔ سماجی، معاشی اور سیاسی وجوہات جن کے پیچھے رہی ہیں۔ 2009 کی ’’سبز تحریک‘‘ جو انتخابی دھاندلی کے خلاف تھی جس کا نعرہ تھا ’’میرا ووٹ کہاں ہے‘‘۔ مشہد سے آغاز ہونے والے 2017-18 کے ہنگامے جن کی بنیادی وجہ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بدحالی تھی جو پورے ملک میں پھیل گئے تھے جس میں پہلی بار براہ راست سپریم لیڈر اور مذہبی نظام کے خلاف نعرے لگائے گئے تھے۔ نومبر 2019 میں پٹرول کی قیمتوں میں اچانک ہونے والے اضافے پر یہ احتجاج انتہائی پرتشدد تھے۔ بعض رپورٹوں کے مطابق جن میں ڈیڑھ ہزار کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 2022 میں حجاب کے معاملے پر مہسا امینی کی دوران حراست موت نے پورے ملک میں آگ لگا دی تھی۔ یہ احتجاج پچھلے احتجاجوں سے اس اعتبار سے مختلف تھا کہ اس کی قیادت خواتین اور نوجوان نسل (Gen Z) کررہی تھی اور یہ براہ راست نظریاتی بنیادوں پر تھے۔ اور اب 2025-26 کے موجودہ معاشی اور سیاسی احتجاج جو 28 دسمبر 2025 سے شروع ہوئے اور پورے ملک میں پھیل چکے ہیں۔

ہنگاموں کے اس تسلسل میں جو وجوہات کافرما ہیں ان میں بنیادی بات یہ ہے کہ ایرانی عوام کا ایک بڑا حصہ، بالخصوص شہروں میں رہنے والے نوجوان موجودہ ایرانی نظام سے شدید نالاں ہیں۔ دہائیوں سے جاری پابندیوں اور اندرونی کرپشن نے معیشت کو تباہ کردیا ہے۔ امریکی پابندیوں کی وجہ سے کرنسی کی قدر میں کمی سے عام آدمی کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ انتخابی عمل میں کڑی پابندیوں نے اصلاح پسندوں کے لیے تمام راستے بند کردیے ہیں۔ طرز زندگی اور سوشل میڈیا کی بے جا اور سخت پابندیاں نوجوان نسل کے لیے ناقابل قبول ہوچکی ہیں۔ اس حد تک کہ اسلامی انقلاب کے ساتھ ساتھ وہ اسلام سے بھی دور ہوتے جارہے ہیں کیونکہ ایران میں اسلام اور ملائوں کی حکومت ایک ہی چیز کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔ نوجوان جب حکومت کی کارکردگی، بے حدو حساب کرپشن اور جبر سے تنگ آتے ہیں تو وہ حکومت کے ساتھ ساتھ اسلام کو بھی اس کا ذمے دار قرار دے دیتے ہیں۔ وہ اسلام کے بجائے فارسی تہذیب وثقافت کو اپنے لیے زیادہ قابل فخر سمجھتے ہیں۔ اسلام کے ساتھ ان کے وہ جذباتی روابط نہیں ہیں جتنے بقیہ اسلامی ممالک کے نوجوانوں کے ہیں۔ ایران اس وقت ایک ایسی نسل کے ساتھ زندہ ہے جو 1979 کے انقلاب سے تقریباً کٹ چکی ہے۔

ایران میں ’’اسلامی تشخص‘‘ اور ’’ایرانی تشخص‘‘ دو الگ الگ مگر باہم مربوط اور جڑی ہوئی چیزیں ہیں۔ ڈھائی ہزار سالہ قدیم ایرانی تہذیب، فارسی زبان اور تاریخ ان کے لیے اس حدتک قابل فخر ہے کہ وہ خود کو صرف ایک مسلم ملک ہی نہیں بلکہ ایک عظیم تہذیب کا وارث بھی سمجھتے ہیں جس کی اہمیت ان کے لیے کسی بھی طور اسلام سے کم نہیں۔ سائرس اعظم اور شاہنامہ کے ہیروان کے لیے اتنے ہی عظیم ہیں جتنے کہ ان کی اسلامی تاریخ کے کردار۔ ایرانی عوام، وہ حکومت کے مخالف ہوں یا حامی وہ کبھی دوسری تہذیبوں (چاہے وہ عرب تہذیب ہو یا مغربی تہذیب) کو برتر تہذیب تسلیم نہیں کرتے۔ وہ مغربی استعمار امریکا اور اسرائیل کے خلاف اتنے ہی حساس ہیں جتنی کہ وہ اپنی خودمختاری اور آزادی کے معاملے میں حساس ہیں۔

حکومت سے ناراضی کے باوجود ایرانی عوام کی اکثریت اپنے ملک پر امریکا یا اسرائیل کا تسلط یا حملہ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایرانیوں کو سیاسی شعور کے اعتبار سے مشرق وسطیٰ ہی کی نہیں دنیا کی سب سے زیادہ باشعور قوموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہاں سیاست ڈرائنگ روم کا نہیں سڑکوں کا موضوع ہے۔ وہاں تعلیم کی شرح بہت بلند اور خواتین میں مردوں سے زیادہ ہے۔ پڑھا لکھا معاشرہ قدرتی طور پر تجزیہ نگار ہوتا ہے۔ ایرانی نوجوانوں کی سوچ بہت گہری ہوتی ہے وہ تاریخ فلسفہ اور عالمی ادب سے گہرا لگائو رکھتے ہیں۔ وہاں کی ٹیکسیوں اور کافی ہائوسزکو منی پارلیمنٹ کہا جاتا ہے۔ ایک عام ایرانی جانتا ہے کہ واشنگٹن میں ہونے والا کوئی فیصلہ یا ویانا میں ہونے والی کانفرنس کس طرح اس کے روزگار کو متاثر کرسکتی ہے۔ کیسے ممکن ہے کہ وہ بھول جائیں کہ 1953 میں کس طرح امریکا اور برطانیہ نے سازش کرکے ان کے جمہوری لیڈر محمد مصدق کا تختہ الٹا تھا۔ صدام حسین نے ایران پر حملہ کیا تھا تو پوری ایرانی قوم نے یک جان ہوکر اس کا مقابلہ کیا تھا۔ کیا ایران کی نوجوان نسل عراق، افغانستان اور لیبیا کے انجام سے آگاہ نہیں ہوگی جمہوریت کے نام پر امریکا نے کس طرح وہاں مداخلت کی اور کیسے ان ممالک کو کھنڈر بنا دیا۔ صدر ٹرمپ، نیتن یاہو اور رضا پہلوی لاکھ اپنے تئیں ایرانی عوام کے خیر خواہ بنیں ایرانی عوام کبھی انہیں اپنا دوست اور خیر خواہ باور نہیں کرسکتے۔ وہ امریکا اور مغرب کی ٹیکنالوجی سے نفرت نہیں کرتے لیکن امریکا کو اپنا سیاسی دشمن سمجھتے ہیں۔

ایرانی عوام اپنی حکومت کے سخت گیر رویوں سے عاجز ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ امریکا اور اسرائیل کے ہاتھوں میں اپنے ملک وقوم کی تقدیر سونپ دیں۔ وہ ایک ایسا ایران چاہتے ہیں جو آزاد ہو، خود مختار ہو اور جدید ہو۔ وہ ایران کو دنیا کی ترقی کے ساتھ چلتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ مذہب کے نام پر گھٹن سے آزادی چاہتے ہیں۔ وہ اپنے نظام کی اصلاح چاہتے ہیں۔ ایران میں ایک بڑا طبقہ وہ ہے جو موجودہ اسلامی ڈھانچے کو نہ صرف برقرار رکھنا چاہتا ہے بلکہ اسے مزید توانا کرنا چاہتا ہے جس کے لیے وہ انسانی حقوق، سماجی آزادی اور معیشت کے اعتبار سے بڑی تبدیلیاں لانا چاہتا ہے۔ وہ اسلامی انقلاب کے اندر انقلاب لانا چاہتے ہیں۔ نوجوان نسل کی صورت میں دوسرا طبقہ وہ ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ موجودہ نظام اتنا سخت ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہیں ہے لیکن وہ بھی بیرونی مداخلت کے بجائے اندرونی تبدیلی پر یقین رکھتا ہے۔ وہ اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنا چاہتے ہیں۔

ایران دنیا کا 17 واں بڑا ملک ہے۔ 16 لاکھ 48 ہزار مربع کلو میٹر۔ عراق سے چار گنا بڑا، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اسپین کو یکجا کردیا جائے تب بھی ان سے بڑا۔ آبادی 9 کروڑ جس میں نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ۔ جغرافیہ ایک قدرتی قلعہ، حملہ آور کے لیے ڈرائونا خواب۔ دفاعی نظام تین حصوں پر مشتمل: ایک پاسداران انقلاب، نظریاتی فورس، غیرروایتی جنگ میں ماہر جس کا اپنا بحری بری اور فضائی انٹیلی جنس نظام ہے جو گوریلا جنگ کے ماہر ہیں۔ دوسری: ایران کے عوامی نیم فوجی ملیشیا جن کی تعداد لاکھوں میں ہے، گلی محلوں سے اُٹھنے والی جس کی مزاحمت کو سنبھالنا کسی غیر ملکی فوج کے لیے ممکن نہیں۔ تیسری: باقاعدہ فوج جدید میزائل ٹیکنالوجی اور دفاعی نظام سے آراستہ۔ ایران پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے امریکا کو کم ازکم دس سے بیس لاکھ فوجیوں کی ضرورت ہوگی جو اس کے پاس دستیاب نہیں۔ ایران آبنائے ہرمز کو بند کرکے دنیا کی معیشت کو تباہ کرسکتا ہے۔ ایرانی عوام اپنی حکومت سے کتنے ہی ناراض ہوں امریکی حملے کی صورت میں وہ یک جان ہوکر بیرونی حملہ آور کے مقابل ہوں گے۔ امریکا اور اسرائیل ایرانی تنصیبات پر فضائی حملے کرسکتے ہیں، معاشی طور پر کمزور کرسکتے ہیں، سازشیں کرسکتے ہیں لیکن اس پر حملہ… خودکشی کے سوا کچھ نہیں۔

بابا الف سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امریکا اور اسرائیل ایرانی عوام نوجوان نسل چاہتے ہیں ایران میں کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.

U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.

Command centers.

Drone storage.

Communication networks.

Coastal surveillance.

Maritime capabilities.

AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6

— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔

???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT

The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.

CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE

— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران