ایران میں پرتشدد مظاہرے، اموات کی تعداد 2,571 ہوگئی: ہیومن رائٹس گروپس
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
بین الاقوامی ہیومن رائٹس گروپس نے انکشاف کیا ہے کہ ایران میں جاری پرتشدد مظاہروں میں اب تک کم از کم 2 ہزار 571 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 2 ہزار 403 مظاہرین اور 147 سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ایرانی حکام نے بھی جانی نقصان کی تصدیق کی ہے اور اسے تسلیم کیا ہے کہ ملک میں حالیہ ہنگاموں میں ہزاروں افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور انہیں ایران میں ہونے والے مظاہروں کے دوران شرپسند عناصر کو امریکی اور اسرائیلی پشت پناہی حاصل ہونے سے آگاہ کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے زور دیا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
یو اے ای کے وزیر خارجہ نے ایرانی ہم منصب سے رابطے کے دوران خطے میں مسلسل مشاورت اور ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے علاوہ ایرانی وزیر خارجہ نے ترک ہم منصب سے بھی رابطہ کیا اور ملک میں مظاہروں اور سلامتی کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
عالمی میڈیا سے گفتگو میں ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ سفارتی رابطے ٹوٹ چکے ہیں اور خطے کے ممالک کو چاہیے کہ وہ فوجی کارروائی روکنے میں کردار ادا کریں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو ایران بھی امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
برطانوی میڈیا کی تازہ رپورٹ کے مطابق ایران میں کرنسی کی قدر میں شدید کمی، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حالیہ مظاہروں کے باوجود حکومت کے گرنے کے کوئی واضح آثار سامنے نہیں آئے ہیں۔
دوسری جانب ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک نے ایران میں مفت اسٹار لنک انٹرنیٹ سروس فراہم کر دی ہے کیونکہ ایران میں کئی روز سے انٹرنیٹ بند ہے اور ہلاکتوں کی درست تعداد معلوم کرنا بھی مشکل ہو گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ایران میں
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔