ایران کی سعودیہ، قطر، امارات میں امریکی اڈے تباہ کرنے کی جوابی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
ہم پر حملہ ہوا تو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور دیگر ممالک میں موجود امریکا کے فوجی اڈّے اور تنصیبات کونشانہ بنائیں گے ،ایران
ایران نے مشرق وسطیٰ کے ان ممالک کو خبردار کیا ہے جہاں امریکی فوجی اڈے قائم ہیں۔ایران نے ٹرمپ کی دھمکی پر جواب دیا ہے کہ اگر ہم پر حملہ ہوا تو مشرق وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی اڈّوں اور تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کا یہ ردعمل اُس وقت سامنے آیا جب صدر ٹرمپ نے ایرانی مظاہرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مدد بس راستے ہیں، آئینی اداروں پر قبضہ کرلیں۔ایرانی حکام نے نہ صرف امریکا کو جواب دیا بلکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کو بھی مطلع کیا کہ امریکا نے حملہ کیا تو ان ممالک میں موجود امریکا کے فوجی اڈّے اور تنصیبات کو بھی دشمن سمجھا جائے گا۔ایرانی حکام نے مشرق وسطیٰ کے ان ممالک سے مقامی انٹیلی جنس کو متحرک اور سیکیورٹی اداروں کو چوکنا رکھنے کی درخواست کی ہے تاکہ امریکا ان فوجی اڈوں کو ایران پر حملے کے لیے استعمال نہ کرے۔اس بیان کے بعد ہی رائٹرز کو سفارتی ذرائعوں نے بتایا کہ امریکا نے قطر میں واقع اپنے سب سے بڑے فوجی اڈے سے کچھ فوجی افسران کو واپس جانے کی ہدایت کی ہے۔جس پر قطر کے انٹرنیشنل میڈیا آفس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ العدید ایٔربیس سے بعض اہلکاروں کی عارضی منتقلی موجودہ علاقائی تناؤ کے ردِعمل میں کی گئی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ قطری حکومت اپنے شہریوں اور رہائشیوں کی سلامتی اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔قطری حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کی اہم تنصیبات اور فوجی مراکز کے تحفظ کے لیے بھی عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔واضح رہے کہ العدید ایٔربیس مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے جہاں 10 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔