احتجاجی لہر تھم گئی، گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک بھر میں مکمل امن رہا، ایران
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
تہران:
ایران کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں سے جاری پُرتشدد مظاہروں میں بتدریج کمی آ رہی ہے جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں رہی۔
تفصیلات کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ نے مغربی ذرائع ابلاغ کو انٹرویو میں کہا کہ تہران سمیت ملک بھی میں پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ بند ہو گیا ہے، اور امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر سیکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تہران سمیت ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں حالات معمول پر آ گئے ہیں، جبکہ سڑکوں اور بازاروں میں معمول کی رونقیں بحال ہو چکی ہیں۔
مزید پڑھیںایران پر امریکی حملے کے قوی امکانات، خطہ ہائی الرٹ پر، میڈیا رپورٹس
ایران میں پُرتشدد مظاہرے رک گئے، صدر ٹرمپ نے بھی تسلیم کر لیا
ایران پر کن اہداف کو نشانہ بنانا ہے؛ پینٹاگون نے ٹرمپ کو فہرست تھما دی
وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ جون جیسے مذموم مقاصد کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے اور بدامنی پھیلانے والوں کو نتائج بھگتنا ہوں گے، ان کا کہنا تھا کہ دشمن ایرانی قوم کے اعتماد کو متنزل کرنے میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہو گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مظاہرین کے بھیس میں بعض دشمن بھی موجود تھے جن کا مقصد ہی جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کرنا تھا تاکہ ملک میں انارکی اور انتشار پھیلے، انہوں نے پراعتماد انداز میں کہا کہ ملک دشمن عناصر نے مظاہرین کی صفوں میں رہ کر پولیس پر فائرنگ کی اور انہیں زندہ جلایا گیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ یورپی مالک سمیت امریکا سے سنگین نوعیت کے خطرات درپیش ہیں، امریکا کبھی بھی ہمارے لیے قابل اعتبار نہیں رہا لیکن ہمارا فلسفہ آج بھی جنگ کے بجائے سفارتکاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔