ملک میں سبز انقلاب کے لیے کوشاں ہیں، درخت کاٹنے پر جرمانہ بڑھانے کے لیے قانون میں ترمیم پر کام شروع کر دیا ہے: وزیر موسمیاتی تبدیلی
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ ان کی وزارت کچھ ایسے منصوبوں پر کام کر رہی ہے جن سے نہ صرف ملک میں سبز انقلاب آنے کا امکان ہے بلکہ اس سے پاکستان کی نئی نسل ماحولیاتی بہتری کے منصوبے شروع کر کے اپنا مستقبل بہتر بنا سکتی ہے۔
وی نیوز کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی ماحولیاتی سائنس پر کام کرنے والے نوجوانوں کو نجی طبقے کے ساتھ ملانے کے ایک منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کے تحت نوجوان ماہرین کی تحقیق اور ماحول بہتر بنانے کے منصوبوں اور ایجادات کو فروغ ملے گا۔
اسلام آباد میں حالیہ دنوں میں درختوں کی کٹائی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی اس معاملے کا جائزہ لے رہی ہے تاہم مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے درخت کاٹنے پر جرمانوں میں اضافے کے لیے قانون سازی کی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں بل جلد قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
مصدق ملک نے کہا کہ اس وقت جو قانون نافذ ہے وہ ایک پرانا قانون ہے، جس کے تحت زیادہ سے زیادہ جرمانہ صرف 10 لاکھ روپے تک محدود ہے۔
’اب آپ خود سوچیں، اگر کوئی ادارہ یا فرد 40 کروڑ روپے کا ماحولیاتی نقصان کر دے، یا کروڑوں روپے کے درخت کاٹ دے، اور بدلے میں صرف 10 لاکھ روپے جرمانہ ادا کر دے، تو یہ کسی صورت انصاف نہیں۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ڈاکٹر مصدق ملک سبز انقلاب ماحولیاتی سائنس موسمیاتی تبدیلی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر مصدق ملک سبز انقلاب ماحولیاتی سائنس موسمیاتی تبدیلی موسمیاتی تبدیلی کے لیے پر کام رہی ہے نے کہا
پڑھیں:
لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
—فائل فوٹوپنجاب کے محکمۂ قانون نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی۔
ذرائع کے مطابق محکمۂ خزانہ نے 12جون کو بجٹ پیش کرنےکی تجویز دی ہے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا کہنا ہے کہ جمعے کو سرکاری چھٹی کی وجہ سے بجٹ پیش نہ کیا جائے اور نہ اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے۔
پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کیلئے نیا قانون تیار کر لیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں کریک ڈاؤن تیز کرنے اور سخت سزائیں دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
محکمۂ قانون کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے معمول کے اجلاس میں زیرِ التوا بل بھی منظور ہو جائیں گے اور 3 بلز منظور کرانے ہیں اس لیے معمول کا اجلاس طلب کیا جائے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجٹ کے لیے مخصوص اجلاس میں بلز منظور نہیں ہوسکتے۔