کراچی اور لاہور میں شدید دھند، فلائٹ آپریشن متاثر، متعدد پروازیں منسوخ اور تاخیر کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
ملک کے بڑے شہروں کراچی اور لاہور میں شدید دھند کے باعث فضائی اور زمینی ٹریفک بری طرح متاثر ہو گئی ہے، جہاں پروازوں کی منسوخی اور تاخیر کے ساتھ ساتھ موٹرویز بھی متعدد مقامات پر بند کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ڈھاکہ ایئرپورٹ پر خوفناک آتشزدگی، فلائٹ آپریشن معطل
کراچی میں شدید دھند کے باعث فلائٹ آپریشن متاثر رہا، جس کے نتیجے میں کم از کم 5 پروازیں مقررہ وقت پر روانہ نہ ہو سکیں۔ ملیر، سرجانی ٹاؤن، اسکیم 33، گلشنِ معمار اور بحریہ ٹاؤن سمیت مختلف علاقوں میں دھند کے ڈیرے رہے، جس سے کئی مقامات پر حدِ نگاہ خطرناک حد تک کم ہو گئی۔
دوسری جانب لاہور ایئرپورٹ اور اس کے اطراف شدید دھند چھائی رہی، جس کے باعث پروازوں کے شیڈول میں شدید خلل پیدا ہوا۔ ائیرپورٹ انتظامیہ کے مطابق بیرونِ ملک جانے اور آنے والی 5 پروازیں منسوخ جبکہ 6 سے زائد پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ اس وقت لاہور ایئرپورٹ کے اطراف حدِ نگاہ صرف 600 میٹر ریکارڈ کی گئی، جس کی وجہ سے فلائٹ آپریشن شدید متاثر ہوا۔
یہ بھی پڑھیں:ملک کے بیشتر علاقوں میں سرد اور خشک موسم، پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا میں شدید دھند کا امکان
انتظامیہ نے مسافروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ائیرپورٹ روانہ ہونے سے قبل اپنی پرواز سے متعلق تازہ معلومات حاصل کریں تاکہ غیر ضروری مشکلات سے بچا جا سکے۔
شدید دھند کے باعث لاہور میں کینال روڈ، مال روڈ، ملتان روڈ اور دیگر اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی بھی سست روی کا شکار رہی۔ اس کے علاوہ پنجاب، خیبر پختونخوا اور سندھ کے مختلف شہروں میں دھند کے باعث موٹرویز متعدد مقامات سے بند کر دی گئی ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ دنوں میں دھند کی شدت میں مزید اضافے کا امکان ہے، جس کے پیشِ نظر ایئرپورٹ انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
دھند فلائٹ آپریشن متاثر کراچی لاہور.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: فلائٹ ا پریشن متاثر کراچی لاہور
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔