کراچی اور لاہور ایئرپورٹس پر ملکی و غیر ملکی ایئرلائنز کی متعدد پروازیں منسوخ اور تاخیر کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
لاہور/
کراچی:
موسمی خرابی، کم مسافر لوڈ اور آپریشنل وجوہات کے باعث ملک کے بڑے ہوائی اڈوں پر پروازوں کا شیڈول بری طرح متاثر ہوگیا۔
کراچی اور لاہور ایئرپورٹس پر ملکی و غیر ملکی ایئرلائنز کی متعدد پروازیں منسوخ اور کئی تاخیر کا شکار ہوئیں۔
ذرائع کے مطابق کراچی ایئرپورٹ پر فلائی ناس کی کراچی سے جدہ جانے اور جدہ سے کراچی آنے والی دو طرفہ پرواز منسوخ کر دی گئی۔ گلف ایئر کی کراچی بحرین کی دو طرفہ پرواز بھی منسوخ کردی گئی۔ ایئرسیال کی کراچی سے لاہور، سیالکوٹ اور اسلام آباد کی دو طرفہ مجموعی طور پر 8 پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔
اسی طرح فلائی ادیل کی کراچی ریاض کی دو طرفہ 2 پروازیں منسوخ ہوئیں جبکہ ایئربلو کی کراچی لاہور کی دو طرفہ 2 پروازیں بھی منسوخ کر دی گئیں۔
ایتھوپین ایئر کی کراچی سے ادیس ابابا کی دو طرفہ 2 پروازیں منسوخ ہوئیں۔ پی آئی اے کی کراچی لاہور کی دو طرفہ پروازیں پی کے 306 اور 307 بھی آپریٹ نہ ہو سکیں۔ اس کے علاوہ ایئرایشیا کی کراچی کوالالمپور کی دو طرفہ 2 پروازیں بھی منسوخ کر دی گئیں۔
دوسری جانب لاہور ایئرپورٹ پر دھند کی شدت برقرار رہنے کے باعث اندرون و بیرون ملک پروازوں کی آمد و رفت شدید متاثر ہوئی۔ نجف، ابوظہبی اور کراچی کی آمدورفت کی تین پروازیں منسوخ کر دی گئیں جبکہ جدہ جانے والی پی آئی اے اور سعودی ایئرلائن کی تین پروازیں تاخیر کا شکار رہیں۔
ذرائع کے مطابق لاہور سے دبئی، ابوظہبی، شارجہ اور کراچی جانے اور آنے والی نجی اور غیر ملکی ایئرلائنز کی چھ پروازیں دو سے چار گھنٹے کی تاخیر سے روانہ ہوئیں۔
ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ روانگی سے قبل اپنی پروازوں کے تازہ ترین شیڈول کی تصدیق متعلقہ ایئرلائنز سے ضرور کریں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل کی دو طرفہ 2 پروازیں پروازیں منسوخ کی کراچی
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔