قتل کا مقدمہ، شیخ حسینہ سمیت 171 افراد کے وارنٹِ گرفتاری جاری
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
بنگلہ دیش کے شہر فینی میں جولائی کی عوامی تحریک کے دوران ایک کالج طالب علم کے قتل کے مقدمے میں عدالت نے سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ اور دیگر اعلیٰ سیاسی شخصیات کے خلاف وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:حسینہ واجد حکومت میں ریاستی تشدد، سابق آرمی چیف ضیاءالاحسن کیخلاف گواہی دیں گے
بنگلہ دیشی خبر رساں اداروں کے مطابق فینی کی ایک عدالت نے بدھ کے روز معزول سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ سمیت 171 افراد کے خلاف وارنٹِ گرفتاری جاری کیے۔ یہ احکامات فینی کے سینئر جوڈیشل مجسٹریٹ محمد حسن نے مقدمے کی چارج شیٹ منظور کرتے ہوئے جاری کیے۔
مقدمے میں سابق عوامی لیگ کے جنرل سیکریٹری عبیدالقدر، سابق وزیرِ داخلہ اسد الزمان خان کمال، فینی۔2 سے رکنِ پارلیمنٹ نظام الدین ہزار ی اور فینی۔3 سے رکنِ پارلیمنٹ مسعود الدین بھی نامزد ملزمان میں شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق 31 جولائی 2025 کو فینی ماڈل تھانے کے سب انسپکٹر اور مقدمے کے تفتیشی افسر عالمگیر حسین نے 221 افراد کے خلاف چارج شیٹ عدالت میں جمع کرائی تھی، جس میں متعدد بااثر سیاسی شخصیات اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے نام بھی شامل تھے۔
یہ مقدمہ کالج طالب علم محبوب الحسن معصوم کی ہلاکت سے متعلق ہے، جو 7 اگست 2024 کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا تھا۔ معصوم تین روز قبل جولائی کی عوامی تحریک کے دوران فائرنگ سے شدید زخمی ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:وائٹ پیپر جاری: حسینہ واجد دور میں ٹیلی کام بدانتظامی اور بدعنوانی بے نقاب
معصوم کے بھائی محمد محمود الحسن نے فینی ماڈل تھانے میں 162 نامزد اور 400 سے 500 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا۔ پولیس کے مطابق اب تک اس کیس میں 39 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جب کہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش حسینہ واجد طالبعلم قتل فینی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش حسینہ واجد طالبعلم قتل فینی
پڑھیں:
وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔