وفاقی کابینہ نے کرنسی نوٹوں کے نئے ڈیزائن پر غور و خوض کے لیے کابینہ کمیٹی تشکیل دے دی۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس گزشتہ روز وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزرا سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

وفاقی کابینہ کو وزارت خزانہ کی جانب سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے جاری ہونے والے بینک نوٹوں کے نئے ڈیزائن کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ نئے کرنسی نوٹوں کو جدید عصری تقاضوں کے حوالے سے ڈیزائن کیا جا رہا ہے اور اس حوالے سے بین الاقوامی ماہرین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔

نئے کرنسی نوٹ کیسے ہوں گے؟

اجلاس کو بتایا گیا کہ 100، 500، ایک ہزار اور 5 ہزار روپے کے نئے ڈیزائن کے بینک نوٹ متعارف کروائے جائیں گے۔ نئے کرنسی نوٹوں میں زیادہ بہتر سیکیورٹی تھریڈ استعمال کیا جائے گا۔

نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن میں پاکستان کے علاقائی اور جغرافیائی تنوع اور تاریخی یادگاروں کو جگہ دی گئی ہے جبکہ خواتین کی قومی ترقی میں شمولیت اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے اہم معاشرتی موضوعات کو بھی ڈیزائن کا حصہ بنایا جائے گا۔

بریفنگ کے بعد وفاقی کابینہ نے کرنسی نوٹوں کے نئے ڈیزائن پر غور و خوض کے لیے کابینہ کمیٹی تشکیل دے دی، جو اپنی رپورٹ پیش کرےگی۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس  کے اوائل میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کے گورنر جمیل احمد نے  دنیا کے دیگر مرکزی بینکوں کی طرح جدید سیکیورٹی فیچرز کے ساتھ کرنسی نوٹوں کی ایک نئی سیریز متعارف کرانے کا عندیہ دیا تھا۔

بعدازاں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں بریفنگ دیتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا تھا کہ 10 روپے سے لے کر 5 ہزار تک تمام کرنسی نوٹسوں کو تبدیل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا تھا کہ ابھی ہم نئے کرنسی نوٹوں پر کام کررہے ہیں، دسمبر 2025 تک نئے ڈیزائن کی کرنسی متعارف کرائی جائے گی۔

گورنر نے کہا تھا کہ کاغذ کے بجائے ایک نوٹ پلاسٹک کا بھی متعارف کرایا جائے گا، ہم دیکھیں گے کہ پلاسٹک نوٹ کی لائف کتنی ہوتی ہے۔ نئے ڈیزائن کی کرنسی متعارف کرانے کے لیے وفاقی کابینہ سے منظوری لی جائے گی۔

اجلاس میں کمیٹی رکن محسن عزیز نے اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے 5 ہزار کا نوٹ بند کرنے کی تجویز دی تھی، جس پر گورنر اسٹیٹ بینک نے کہاکہ 5 ہزار کا کرنسی نوٹ بند نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی ایسی کوئی تجاویز ہیں۔

نئے کرنسی نوٹ ڈیزائن کرنے کا مقابلہ

اس کے بعد اسٹیٹ بینک نے نئے ڈیزائنز کے لیے ایک مقابلے کا انعقاد بھی کیا تھا جس میں 10 روپے سے لے کر 5 ہزار روپے تک کے نئے نوٹوں کے 10 ڈیزائنز کو شارٹ لسٹ کیا گیا تھا۔

شارٹ لسٹ کیے گئے ڈیزائنز میں 20، 50، 100، اور ایک ہزار روپے کے نوٹ کا ایک ایک ڈیزائن شامل تھا، جبکہ 10، 500، اور 5 ہزار روپے کے نوٹوں کے 2،2 ڈیزائن شامل تھے۔

کرنسی نوٹ چھاپنے کے کتنے مراحل ہوتے ہیں؟

نئے کرنسی نوٹ چھاپنے کے لیے مرکزی بینک سب سے پہلے یہ اندازہ لگاتا ہے کہ ایک سال میں ملک کو کس مالیت کے کتنے نوٹوں کی ضرورت ہو گی؟

یہ اندازہ عوامی ضروریات میں متوقع اضافہ، بوسیدہ اور پھٹے ہوئے نوٹوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت اور زیرِ گردش کرنسی کے حجم کو مدنظر رکھ کر لگایا جاتا ہے۔

نئے کرنسی نوٹوں کی چھپائی سے پہلےایک اہم مرحلہ ڈیزائن کا انتخاب ہوتا ہے اور یہ کام مرکزی بینک کرتا ہے یا بین الاقوامی ماہرین کی خدمات لیتا ہے۔ ڈیزائن میں ملک کی ثقافت، تاریخ اور اہم شخصیات کو اجاگر کیا جاتا ہے۔

کرنسی نوٹ کی سب سے بڑی حفاظت اس کے سیکیورٹی فیچرز ہوتے ہیں تاکہ جعل سازی کو روکا جا سکے۔ جیسے کہ واٹر مارک کاغذ میں چھپی ہوئی تصویر یا خاکہ جو روشنی کے سامنے لانے پر نظر آتا ہے۔

نوٹ کے اندر دھنسا ہوا ایک خصوصی دھاگہ، سیاہی جو مختلف زاویوں سے دیکھنے پر اپنا رنگ بدلتی ہے۔ ابھری ہوئی چھپائی جسے ہاتھ سے چھو کر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ بہت چھوٹے سائز کے الفاظ جو عام آنکھ سے پڑھنا مشکل ہوتے ہیں۔

کرنسی نوٹوں کے لیے ایک خاص قسم کا کاغذ استعمال کیا جاتا ہے جو عام طور پر 100 فیصد کپاس پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ کاغذ عام کاغذ سے زیادہ مضبوط اور پائیدار ہوتا ہے اور اس میں سیکیورٹی فیچرز جیسے واٹر مارک اور سیکیورٹی تھریڈ پہلے ہی شامل کر دیے جاتے ہیں۔ یہ کاغذ مخصوص اور محفوظ پرنٹنگ پریس میں تیار ہوتا ہے۔

’نوٹوں کی چھپائی ایک یا زیادہ مخصوص سرکاری پرنٹنگ پریس میں ہوتی ہے‘

نوٹوں کی چھپائی ایک یا زیادہ مخصوص سرکاری پرنٹنگ پریس میں ہوتی ہے۔ پاکستان میں سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن نوٹوں کی چھپائی کرتا ہے اور یہ کام انتہائی رازداری سے کیا جاتا ہے تاکہ جعل سازوں سے اسے چھپانا ممکن بنایا جا سکے۔

آفسیٹ پرنٹنگ نوٹ کے بنیادی اور پس منظر کے رنگوں کی چھپائی کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ انٹگلیو پرنٹنگ سب سے اہم چھپائی ہے جس سے نوٹ پر موجود تصویر، قائداعظم کی تصویر اور اہم تحریریں ابھر کر سامنے آتی ہیں۔

یہی وہ عمل ہے جو نوٹ کو ہاتھ سے چھونے پر محسوس ہوتا ہے، سیریل نمبر پرنٹنگ ہر نوٹ کو ایک منفرد سیریل نمبر دیتا ہے۔

نئے کرنسی نوٹ متعارف کرانے سے عوام کو کیا فائدہ ہوگا؟

وی نیوز نے معاشی ماہرین سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ نئے کرنسی نوٹ متعارف کرانے سے کیا پاکستان کے معاشی مسائل حل ہوں گے؟، کالا دھن کرنے والوں کو کیا نقصان ہو گا اور کیا بھارت میں کیا گیا ایسا تجربہ کہ جس میں بڑے کرنسی نوٹ ختم کیے گئے، وہ کامیاب رہا؟

معاشی امور کے ماہر خرم شہزاد نے کہاکہ جب تک 5 ہزار جیسے بڑے کرنسی نوٹ ہیں نئے کرنسی نوٹ متعارف کرانا کوئی نئی چیز نہیں ہو گی، نئے کرنسی نوٹ لانے سے کالے دھن والوں پر کیا اثر پڑے گا یا نہیں یہ ابھی بتانا قبل از وقت ہو گا۔

انہوں نے کہاکہ نئے کرنسی نوٹوں کو نئے سیکیورٹی فیچرز کے ساتھ لانا ایک اچھا قدم ہوگا۔ جو لوگ کالے دھن سے کیش لے کر اپنے پاس رکھتے ہیں ان کو نئے نوٹ لینے میں زیادہ مشکل نہیں ہو گی، لیکن اگر یہ بڑے نوٹ منسوخ کر دیے جاتے ہیں تو اس سے کالا دھن کرنے والوں کو مشکل ہو گی۔

بھارت میں نئے کرنسی نوٹ متعارف کرانے کا تجربہ زیادہ کامیاب نہیں رہا

خرم شہزاد نے کہاکہ ابھی یہ بھی جاننے کی ضرورت ہے کہ لوگ اس وقت کتنا کیش رکھتے ہیں؟ جب بھی مہنگائی زیادہ ہوتی ہے تو لوگ کیش کو گھر پر رکھنا پسند نہیں کرتے بلکہ اس کا پلاٹ لے لیتے ہیں یا گاڑیاں، سونا یا پھر ڈالر لے لیتے ہیں۔

’بھارت میں بڑے کرنسی نوٹ ختم کر کے نئے کرنسی نوٹ لائے گئے لیکن وہ تجربہ بھی بہت زیادہ کامیاب نہیں ہوا۔ دیکھنا ہو گا کہ کیا پرانے نوٹوں کو منسوخ کیا جا رہا ہے یا پھر صرف نئے نوٹ لائے جا رہے ہیں۔‘

ماہر معیشت خرم شہزاد نے کہاکہ معیشت میں بہتری تب آئے گی جب نئے نوٹوں کو کم چھاپا جائے گا، پاکستان کی حکومت پچھلے کئی سالوں سے نیا قرضہ لیتی ہے تو نوٹ چھپتے ہیں، اسٹیٹ بینک کو چاہیے کہ ان نوٹوں کی پرنٹنگ کو کنٹرول کریں، اسی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے اور لوگوں کے ہاتھوں میں کیش جاتا ہے۔

’مہنگائی میں کمی نئے نوٹ بنانے سے نہیں بلکہ نوٹوں کی چھپائی روکنے سے آئے گی، ہمارے ملک میں بہت سے لوگ گھروں میں کیش اس لیے بھی رکھتے ہیں کہ ان کو گھروں کی بہت ساری ذمہ داریاں پوری کرنا ہوتی ہیں، شادیاں کرنی ہوتی ہیں، نئے گھر بنانے ہوتے ہیں۔‘

حکومت کو معلوم ہو جائے گا کہ کس کے پاس کتنا سرمایہ ہے

سینیئر صحافی شعیب نظامی نے کہا کہ نئے کرنسی نوٹ لانے کا معیشت کو یہ فائدہ ہو گا کہ حکومت کو معلوم ہو جائے گا کہ کس کے پاس کتنا سرمایہ ہے، نئے کرنسی نوٹ لانے سے ان لوگوں کو مشکل ہو گی کہ جن لوگوں کے پاس پرانے نوٹ ہیں، یا جعلی نوٹ ہیں، ان کو بتانا ہو گا کہ نوٹ کہاں سے آئے، عام آدمی کو نئے نوٹ آنے سے اس طرح فائدہ ہو گا کہ جب کالا دھن مارکیٹ میں آئے گا تو خود سے مہنگائی میں کمی آئے گی۔

شعیب نظامی نے کہاکہ بھارت نے جب بڑے کرنسی نوٹ ختم کیے تو ان کی حکومت کو معلوم ہو گیا کہ کون سے شخص کے پاس کتنا پیسا ہے، بھارت کو اس کا بہت فائدہ ہوا تھا، اور نئے نوٹوں کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ نوٹ کے سیکیورٹی فیچرز بین الاقوامی سٹینڈرڈ کے ہو جائیں گے اور جعلی نوٹ بننا بند ہو جائیں گے۔

نئے کرنسی نوٹ متعارف کرانے سے ملکی معیشت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا

وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سینیئر صحافی و معاشی تجزیہ کار مہتاب حیدر نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے نئے نوٹ لانے کا اعلان اس لیے کیا کہ مارکیٹ میں بہت سے جعلی کرنسی نوٹ گردش کر رہے ہیں، پہلے حکومت یہ سوچ رہی تھی کہ 5 ہزار کے نوٹ کو ختم کیا جائے، لیکن اب یہ فیصلہ ہوا ہے کہ اس وقت ملک میں گردش کرنے والے کم سیکیورٹی فیچرز والے نوٹ واپس لے لیے جائیں اور بہتر سیکیورٹی فیچرز کے ساتھ نئے کرنسی نوٹ جاری کر دیے جائیں۔

انہوں نے کہاکہ اس وقت بینکوں کے اے ٹی ایم سے بھی جعلی نوٹ نکلنے کی شکایات آ رہی ہیں۔ نئے کرنسی نوٹ لانے سے پاکستان کے معاشی حالات پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: نئے کرنسی نوٹ متعارف کرانے نئے کرنسی نوٹ لانے کہ نئے کرنسی نوٹ نئے کرنسی نوٹوں سیکیورٹی فیچرز کرنسی نوٹوں کے کے نئے ڈیزائن بڑے کرنسی نوٹ وفاقی کابینہ اسٹیٹ بینک ہزار روپے نوٹوں کو نے کہاکہ ہوتے ہیں فائدہ ہو کیا جائے ہو گا کہ ہوتی ہے جائے گا ہوتا ہے جاتا ہے نئے نوٹ نوٹ کی کے لیے کے پاس نے کہا ہے اور کیا جا

پڑھیں:

کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع

اگلےسال نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشن(crypto transactions) پر کیپیٹل گین ٹیکس لگانےکی تجویز سامنے آئی ہے،ذرائع کےمطابق کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 سے 30 فیصد تک کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان ہے۔

آئی ایم ایف کی مشاورت سےکرپٹوسیکٹرکو ٹیکس نیٹ میں لانےکی تیاری کی جارہی ہے، اس اقدام کا مقصدکرپٹو سیکٹرکو ٹیکس نیٹ میں لانا اورڈیجیٹل معیشت سےحاصل ہونے والے منافع کو ریگولیٹ کرنا ہے،آئی ایم ایف نے تمام ڈیجٹل کاروبار سے منافع پر ٹیکس عائد کا مطالبہ کیا تھا۔

مجوزہ پلان کےتحت انکم ٹیکس آرڈیننس کےسیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سےمتعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کی جائے گی،کرپٹو ٹریڈنگ سےحاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کےدائرے میں آسکتا ہے۔

ذرائع کاکہنا ہےکہ ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی نےبھی کرپٹو صارفین پرٹیکس اور ریگولیٹری اقدامات کی تجاویزدی ہیں،جبکہ صارفین کی تعداد،ٹرانزیکشنزاورٹیکس میکانزم کےلیےایک خصوصی کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔

ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی نےکرپٹوصارفین پر ٹیکس اقدامات تجویزکیے،کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزکشنز اور ٹیکس میکنزم کیلئے کمیٹی بھی قائم کی گئی۔

مزید پڑھیں:27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ

ورچوئل اثاثوں کو لیگل قراردےکرڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانےکافیصلہ کیاگیا، روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کرکےورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن ہوگی،پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج ہوسکے گی۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان