جوڈیشل کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ کے 6 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دیدی
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
ذرائع کے مطابق ایڈیشنل جج جسٹس انعام اللہ خان، ایڈیشنل جج جسٹس فرح جمشید، ایڈیشنل جج جسٹس ثابت اللہ اور ایڈیشنل جج جسٹس اورنگزیب کی مدت میں 6 ماہ کی توسیع کی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ جوڈیشل کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ کے 6 ایڈیشنل ججز کو مستقل کر نے کی منظوری دے دی۔ چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت پشاورہائیکورٹ کے 10 ایڈیشنل ججز کی مستقلی کے لیے جوڈیشل کمیشن اجلاس ہوا جس میں موجود ارکان نے متفقہ طور پر 6 ججوں کو مستقل اور 4 ججوں کی مدت میں 6 ماہ توسیع کی منظوری دی۔ اس کے علاوہ پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد طارق آفریدی، جسٹس عبدالفیاض اور جسٹس فرح جمشید کی مستقلی پر غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ایڈیشنل جج جسٹس انعام اللہ خان، ایڈیشنل جج جسٹس فرح جمشید، ایڈیشنل جج جسٹس ثابت اللہ اور ایڈیشنل جج جسٹس اورنگزیب کی مدت میں 6 ماہ کی توسیع کی گئی۔
ذرائع نے بتایا کہ ایڈیشنل جج جسٹس صادق علی، ایڈیشنل جج جسٹس مدثر امیر، ایڈیشنل جج جسٹس محمد طارق آفریدی اور ایڈیشنل جج جسٹس عبدالفیاض کو مستقل جج بنانے کی منظوری دی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایڈیشنل جج جسٹس اصلاح الدین اور ایڈیشنل جج جسٹس قاضی جواد احسان اللہ کو بھی مستقل جج بنانےکی منظوری دی گئی۔ ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمیشن اجلاس میں پی ٹی آئی ارکان بیرسٹر علی ظفر اور بیرسٹر گوہر شریک نہیں ہوئے جب کہ خیبر پختونخوا کے وزیر قانون آفتاب عالم آفریدی بھی اجلاس میں نہیں آئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اور ایڈیشنل جج جسٹس جوڈیشل کمیشن کی منظوری دی کو مستقل
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔