الیکشن کمیشن کا سخت انتباہ، اراکین پارلیمان کو آج ہی اثاثے ظاہر کرنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے اُن تمام اراکین کو ہدایت کی ہے جنہوں نے تاحال اپنے اثاثوں اور واجبات کے گوشوارے جمع نہیں کرائے کہ وہ آج 15 جنوری 2026 تک اپنے گوشوارے لازمی طور پر جمع کرائیں۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق یہ گوشوارے الیکشن ایکٹ 2017 کی سیکشن 137 کے تحت مجوزہ فارم B پر جمع کروانا لازم ہے۔
آج مہلت ختم، کل سے رکنیت معطلالیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ اگر مقررہ تاریخ تک گوشوارے جمع نہ کرائے گئے تو 16 جنوری 2026 سے متعلقہ اراکینِ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کی رکنیت معطل کر دی جائے گی۔
یہ اقدام انتخابی قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
دفاتر رات 12 بجے تک کھلے رہیں گےگوشواروں کی وصولی کے عمل کو آسان بنانے کے لیے الیکشن کمیشن کے پولیٹیکل فنانس ونگ (کہسار بلاک) کے دفاتر آج رات 12 بجے تک کھلے رہیں گے تاکہ اراکین بروقت اپنے گوشوارے جمع کرا سکیں۔
اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات جمع کرانا کیوں ضروری؟الیکشن کمیشن کے ترجمان کے مطابق اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات جمع کرانا ایک آئینی اور قانونی تقاضا ہے، جس کا مقصد عوامی نمائندوں کے مالی معاملات میں شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔