Islam Times:
2026-07-24@05:54:20 GMT

خود آپ اپنے دام میں موساد آگئی

اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT

خود آپ اپنے دام میں موساد آگئی

اسلام ٹائمز: ایسے میں جبکہ ان فسادیوں کو یہ خبر نہیں تھی کہ وہ جس گراونڈ پر اپنا کھیل کھیل رہے ہیں، وہ دراصل ایرانی حکومت کے اپنے ہموار کیے گئے میدان میں کھیلا جا رہا ہے۔ البتہ اس کھیل کے وقت کا انتخاب خود فسادیوں نے کیا تھا۔ فسادیوں نے جب ایران کے سیکیورٹی اداروں کی ڈھیل دیکھی تو اسے بھی حسب سابق ان کی کمزوری سمجھا اور یہ سمجھا کہ حکومت کو گرانے کا اس سے بہتر موقع شاید انہیں اس کے بعد میسر نہ آئے۔ تحریر: پروفیسر سید تنویر حیدر نقوی

پچھلے برس امریکہ و اسرائیل نے جب ایران پر حملہ کیا تو اس وقت ایران کے اندر موساد اور سی آئی اے کا بچھایا ہوا زیر زمین ایک ایسا وسیع ”نیٹ ورک“ تھا جس کی مدد سے ایران کی اعلیٰ شخصیات کو نشانہ بنایا گیا۔ یقیناً ایران کے سیکیورٹی اداروں کی یہ ناکامی تھی۔ ایران کے لیے یہ صدمہ ناقابل برداشت تھا۔ تب سے لے کر اب تک اسلامی جمہوری ایران کی تمام تر توجہ کا مرکز امریکہ اور اسرائیل کا بچھایا ہوا جاسوسی کا یہ نیٹ ورک تھا۔ ایران کی حکومت اور اس کے عوام کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ کسی طرح سے اس نیٹ ورک سے منسلک غداروں کو ان کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ امریکہ کے جاسوسی کے اداروں کی ایک تاریخ ہے۔ مخالف حکومتوں کو گرانا اور مخالف سیاستدانوں کو اٹھانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل سمجھا جاتا ہے۔

حال ہی میں امریکہ نے جس طرح وینیزویلا کے صدر ”میڈورو“ کو اس کی خواب گاہ سے اٹھایا، وہ امریکہ کے سیکیورٹی اداروں کی انجام دی گئی اس طرح کی کاروائیوں کی ایک جدید ترین مثال ہے۔ ایران بھی امریکہ کی اس قسم کی جاسوسی کا مدت سے شکار رہا ہے۔ ڈاکٹر مصدق کی حکومت کے خاتمے میں امریکی انٹیلیجنس ایجنسی سی آئی اے کا ہاتھ تھا۔ مختلف ممالک میں امریکی سفارت خانے درحقیقت امریکہ کے جاسوسی کے اڈے ہوتے ہیں۔ گویا امریکہ کو جو اپنا مہمان بناتا ہے، وہ اپنا لٹنا آسان بناتا ہے۔ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے کچھ عرصہ بعد تک تہران میں امریکی سفارت خانہ موجود تھا۔ لیکن جب امام خمینی نے اسے جاسوسی کا اڈا قرار دیا تو پھر ایرانی طلباء نے اس پر قبضہ کر کے اس کے سفارتی عملے کے 52 اراکین کو یرغمال بنا لیا۔

ان کا بنیادی مطالبہ شاہ ایران کی واپسی تھا جو ایران سے فرار تھا۔ آخر امریکی یرغمالیوں نے اس وقت رہائی پائی جب شاہ ایران نے کینسر کی بیماری سے وفات پائی۔ ایران میں سفارت خانے کی شکل میں امریکہ کا جاسوسی کا اڈا تو نہ رہا البتہ ایران میں اس کی جاسوسی کا نیٹ ورک باقی رہا جو ایران کی اسلامی حکومت کو گرانے کے لیے آج تک مصروف عمل ہے۔ ایران میں ہونے والے موجودہ فسادات بھی جاسوسی کے اسی نیٹ ورک کی کارستانی تھے۔ لیکن ایران کی حکومت جو جاسوسی کے اس نیٹ ورک کے ہاتھوں 12 روزہ جنگ میں اپنی قیمتی شخصیات کے کھو جانے کا ایک گہرا زخم اٹھا چکی تھی، اس نے اس بار صیاد کو خود آپ اپنے دام میں پھنسانے کا ارادہ کر لیا۔ چنانچہ ایک حکمت عملی کے تحت ایرانی حکام نے کسی حد تک ان فسادیوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع دیا۔

ایسے میں جبکہ ان فسادیوں کو یہ خبر نہیں تھی کہ وہ جس گراونڈ پر اپنا کھیل کھیل رہے ہیں، وہ دراصل ایرانی حکومت کے اپنے ہموار کیے گئے میدان میں کھیلا جا رہا ہے۔ البتہ اس کھیل کے وقت کا انتخاب خود فسادیوں نے کیا تھا۔ فسادیوں نے جب ایران کے سیکیورٹی اداروں کی ڈھیل دیکھی تو اسے بھی حسب سابق ان کی کمزوری سمجھا اور یہ سمجھا کہ حکومت کو گرانے کا اس سے بہتر موقع شاید انہیں اس کے بعد میسر نہ آئے۔ چناچہ زیرزمین چھپے ہوئے موساد اور سی آئی اے کے ایجنٹ اپنے فساد کو انجام تک پہنچانے کے لیے اس طرح سے سڑکوں پر نمودار ہوئے جس طرح موسم برسات کی آمد پر پتنگے فضا میں بلند ہوتے ہیں۔ گویا: ”خود آپ اپنے دام میں صیاد آگیا“ اس کے بعد پھر جو کچھ ان ”جاسوسوں“ پر گزری اسے داستان عبرت کی شکل میں پڑھا جاتا رہے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے سیکیورٹی اداروں کی فسادیوں نے جاسوسی کے جاسوسی کا ایران کے ایران کی نیٹ ورک

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران