خود آپ اپنے دام میں موساد آگئی
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: ایسے میں جبکہ ان فسادیوں کو یہ خبر نہیں تھی کہ وہ جس گراونڈ پر اپنا کھیل کھیل رہے ہیں، وہ دراصل ایرانی حکومت کے اپنے ہموار کیے گئے میدان میں کھیلا جا رہا ہے۔ البتہ اس کھیل کے وقت کا انتخاب خود فسادیوں نے کیا تھا۔ فسادیوں نے جب ایران کے سیکیورٹی اداروں کی ڈھیل دیکھی تو اسے بھی حسب سابق ان کی کمزوری سمجھا اور یہ سمجھا کہ حکومت کو گرانے کا اس سے بہتر موقع شاید انہیں اس کے بعد میسر نہ آئے۔ تحریر: پروفیسر سید تنویر حیدر نقوی
پچھلے برس امریکہ و اسرائیل نے جب ایران پر حملہ کیا تو اس وقت ایران کے اندر موساد اور سی آئی اے کا بچھایا ہوا زیر زمین ایک ایسا وسیع ”نیٹ ورک“ تھا جس کی مدد سے ایران کی اعلیٰ شخصیات کو نشانہ بنایا گیا۔ یقیناً ایران کے سیکیورٹی اداروں کی یہ ناکامی تھی۔ ایران کے لیے یہ صدمہ ناقابل برداشت تھا۔ تب سے لے کر اب تک اسلامی جمہوری ایران کی تمام تر توجہ کا مرکز امریکہ اور اسرائیل کا بچھایا ہوا جاسوسی کا یہ نیٹ ورک تھا۔ ایران کی حکومت اور اس کے عوام کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ کسی طرح سے اس نیٹ ورک سے منسلک غداروں کو ان کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ امریکہ کے جاسوسی کے اداروں کی ایک تاریخ ہے۔ مخالف حکومتوں کو گرانا اور مخالف سیاستدانوں کو اٹھانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل سمجھا جاتا ہے۔
حال ہی میں امریکہ نے جس طرح وینیزویلا کے صدر ”میڈورو“ کو اس کی خواب گاہ سے اٹھایا، وہ امریکہ کے سیکیورٹی اداروں کی انجام دی گئی اس طرح کی کاروائیوں کی ایک جدید ترین مثال ہے۔ ایران بھی امریکہ کی اس قسم کی جاسوسی کا مدت سے شکار رہا ہے۔ ڈاکٹر مصدق کی حکومت کے خاتمے میں امریکی انٹیلیجنس ایجنسی سی آئی اے کا ہاتھ تھا۔ مختلف ممالک میں امریکی سفارت خانے درحقیقت امریکہ کے جاسوسی کے اڈے ہوتے ہیں۔ گویا امریکہ کو جو اپنا مہمان بناتا ہے، وہ اپنا لٹنا آسان بناتا ہے۔ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے کچھ عرصہ بعد تک تہران میں امریکی سفارت خانہ موجود تھا۔ لیکن جب امام خمینی نے اسے جاسوسی کا اڈا قرار دیا تو پھر ایرانی طلباء نے اس پر قبضہ کر کے اس کے سفارتی عملے کے 52 اراکین کو یرغمال بنا لیا۔
ان کا بنیادی مطالبہ شاہ ایران کی واپسی تھا جو ایران سے فرار تھا۔ آخر امریکی یرغمالیوں نے اس وقت رہائی پائی جب شاہ ایران نے کینسر کی بیماری سے وفات پائی۔ ایران میں سفارت خانے کی شکل میں امریکہ کا جاسوسی کا اڈا تو نہ رہا البتہ ایران میں اس کی جاسوسی کا نیٹ ورک باقی رہا جو ایران کی اسلامی حکومت کو گرانے کے لیے آج تک مصروف عمل ہے۔ ایران میں ہونے والے موجودہ فسادات بھی جاسوسی کے اسی نیٹ ورک کی کارستانی تھے۔ لیکن ایران کی حکومت جو جاسوسی کے اس نیٹ ورک کے ہاتھوں 12 روزہ جنگ میں اپنی قیمتی شخصیات کے کھو جانے کا ایک گہرا زخم اٹھا چکی تھی، اس نے اس بار صیاد کو خود آپ اپنے دام میں پھنسانے کا ارادہ کر لیا۔ چنانچہ ایک حکمت عملی کے تحت ایرانی حکام نے کسی حد تک ان فسادیوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع دیا۔
ایسے میں جبکہ ان فسادیوں کو یہ خبر نہیں تھی کہ وہ جس گراونڈ پر اپنا کھیل کھیل رہے ہیں، وہ دراصل ایرانی حکومت کے اپنے ہموار کیے گئے میدان میں کھیلا جا رہا ہے۔ البتہ اس کھیل کے وقت کا انتخاب خود فسادیوں نے کیا تھا۔ فسادیوں نے جب ایران کے سیکیورٹی اداروں کی ڈھیل دیکھی تو اسے بھی حسب سابق ان کی کمزوری سمجھا اور یہ سمجھا کہ حکومت کو گرانے کا اس سے بہتر موقع شاید انہیں اس کے بعد میسر نہ آئے۔ چناچہ زیرزمین چھپے ہوئے موساد اور سی آئی اے کے ایجنٹ اپنے فساد کو انجام تک پہنچانے کے لیے اس طرح سے سڑکوں پر نمودار ہوئے جس طرح موسم برسات کی آمد پر پتنگے فضا میں بلند ہوتے ہیں۔ گویا: ”خود آپ اپنے دام میں صیاد آگیا“ اس کے بعد پھر جو کچھ ان ”جاسوسوں“ پر گزری اسے داستان عبرت کی شکل میں پڑھا جاتا رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے سیکیورٹی اداروں کی فسادیوں نے جاسوسی کے جاسوسی کا ایران کے ایران کی نیٹ ورک
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔