گیس لیکج دھماکوں کے باعث ہلاکتوں پر ریسکیو حکام کی ایڈوائزری جاری
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
گیس لیکج دھماکوں کے باعث ہلاکتوں پر ریسکیو حکام نے ایڈوائزری جاری کر دی۔
ریسکیو حکام کے مطابق سردیوں میں گیس لیکج کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، گیس کی بو آنے پر بجلی کا بٹن نہ دبائیں اور آگ نہ جلائیں۔
حکام نے کہا کہ گیس لیکج کی صورت میں دروازے کھڑکیاں فوراً کھول دیں، گیس لیکج کی صورت میں اہل خانہ کو فوراً باہر محفوظ مقام پر منتقل کریں۔
اجلاس میں حفاظتی اقدامات اور آئندہ کی سفارشات پر بھی غور کیا گیا، کمیٹی 48 گھنٹوں میں اپنی رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کرے گی۔
ریسکیو حکام کا کہنا تھا کہ گیس سے متعلقہ آلات اور گیس پائپ کو لازمی چیک کریں، سردیوں میں بچوں کو گیس کے آلات سے دور رکھیں، رات کو سونے سے قبل تمام گیس آلات درست طریقے سے بند کریں۔
حکام نے کہا کہ بروقت احتیاط ہی جانوں کے تحفظ کی ضامن ہے، گیس آلات کے استعمال میں کسی بھی قسم کی لاپرواہی خطرناک ہو سکتی ہے۔
ریسکیو حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ حادثے کی صورت میں فوراً ریسکیو ہیلپ لائن 1122 پر اطلاع دیں، بروقت اطلاع ہی بروقت ریسپانس کو ممکن بناتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ریسکیو حکام گیس لیکج
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔