بجلی کی تقسیم کارکمپنیوں کی نجکاری کیخلاف 26 جنوری کوملک گیرہڑتال کرنےکا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
شاہد سپرا:وفاقی حکومت کی جانب سےبجلی کی تقسیم کارکمپنیوں کی نجکاری، بجلی کی تقسیم کارکمپنیوں میں26جنوری کوملک گیرہڑتال کرنےکااعلان کر دیا گیا۔
آل پاکستان واپڈاہائیڈروالیکٹرک ورکرز یونین نےاحتجاج کرنےکی کال دی، 10روز میں نجکاری پر مذاکرات نہ ہونے پر ملک گیر ہڑتال کی جائےگی۔
وفاقی وزیرپاورڈویژن سردار اویس لغاری اورسیکرٹری پاور ڈویژن کواحتجاج کامراسلہ ارسال کردیا۔
15 جنوری کو انٹر نیٹ سروسز مکمل طور پر فعال رہیں گی : پی ٹی اے
مراسلہ کے مطابق متعددبارنجکاری پربات چیت کی کوشش کےباوجودجواب نہیں دیا گیا، صارفین کو بجلی فراہم کرنے والے ملازمین کو سنا جائے، درخواستوں کے باوجود جواب نہ ملنے پر احتجاج کی کال دی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔