ایرانی میڈیا کی جلاؤ گھیراؤ میں ملوث فسادیوں کی مزید ویڈیوز جاری، حالات بتدریج معمول پر آنے لگے
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایرانی میڈیا نے ملک میں حالیہ پُرتشدد مظاہروں کے دوران جلاؤ گھیراؤ میں ملوث فسادی عناصر کی مزید ویڈیوز جاری کر دی ہیں، جن میں شرپسندوں کو مساجد اور دیگر عوامی و سرکاری مقامات کو آگ لگاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
ویڈیوز میں مختلف علاقوں میں توڑ پھوڑ اور املاک کو نقصان پہنچانے کے مناظر بھی دکھائے گئے ہیں۔
ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق سکیورٹی اداروں کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ فسادی عناصر کو تیل کی تنصیبات اور بجلی گھروں پر حملوں کا باقاعدہ ٹاسک دیا گیا تھا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ موساد سے منسلک پراکسی نیٹ ورکس کے ذریعے ایرانی خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں کی نقل و حرکت اور حساس مقامات کی نگرانی کی جا رہی تھی۔
دوسری جانب سکیورٹی فورسز نے ملک کے مختلف علاقوں میں چھاپوں کے دوران پُرتشدد کارروائیوں میں ملوث متعدد مظاہرین کو گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے پیٹرول، دستی بم اور دیگر آتش گیر مواد برآمد ہوا ہے، جس سے تشدد کو منظم انداز میں پھیلانے کی کوششوں کا عندیہ ملتا ہے۔
واضح رہے کہ ایران میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ اب رک چکا ہے۔ رپورٹس کے مطابق احتجاج کے خاتمے کے بعد مختلف شہروں میں حالات بتدریج معمول پر آنا شروع ہو گئے ہیں، جبکہ انٹرنیشنل کالنگ سروس بحال کر دی گئی ہے، تاہم انٹرنیٹ سروس تاحال بند ہے۔
ادھر ایک امریکی انسانی حقوق تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں احتجاجی مظاہروں کے دوران اب تک 2403 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم ایرانی حکام کی جانب سے ان اعداد و شمار کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔ صورتحال پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔