data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ایرانی میڈیا نے ملک میں حالیہ پُرتشدد مظاہروں کے دوران جلاؤ گھیراؤ میں ملوث فسادی عناصر کی مزید ویڈیوز جاری کر دی ہیں، جن میں شرپسندوں کو مساجد اور دیگر عوامی و سرکاری مقامات کو آگ لگاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

ویڈیوز میں مختلف علاقوں میں توڑ پھوڑ اور املاک کو نقصان پہنچانے کے مناظر بھی دکھائے گئے ہیں۔

ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق سکیورٹی اداروں کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ فسادی عناصر کو تیل کی تنصیبات اور بجلی گھروں پر حملوں کا باقاعدہ ٹاسک دیا گیا تھا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ موساد سے منسلک پراکسی نیٹ ورکس کے ذریعے ایرانی خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں کی نقل و حرکت اور حساس مقامات کی نگرانی کی جا رہی تھی۔

دوسری جانب سکیورٹی فورسز نے ملک کے مختلف علاقوں میں چھاپوں کے دوران پُرتشدد کارروائیوں میں ملوث متعدد مظاہرین کو گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے پیٹرول، دستی بم اور دیگر آتش گیر مواد برآمد ہوا ہے، جس سے تشدد کو منظم انداز میں پھیلانے کی کوششوں کا عندیہ ملتا ہے۔

واضح رہے کہ ایران میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ اب رک چکا ہے۔ رپورٹس کے مطابق احتجاج کے خاتمے کے بعد مختلف شہروں میں حالات بتدریج معمول پر آنا شروع ہو گئے ہیں، جبکہ انٹرنیشنل کالنگ سروس بحال کر دی گئی ہے، تاہم انٹرنیٹ سروس تاحال بند ہے۔

ادھر ایک امریکی انسانی حقوق تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں احتجاجی مظاہروں کے دوران اب تک 2403 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم ایرانی حکام کی جانب سے ان اعداد و شمار کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔ صورتحال پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک

سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئےفتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 24 مئی کو پیش آنے والے ٹرین واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں انٹیلی جنس بنیادوں پر متعدد آپریشنز کیے۔

مزید پڑھیں: بلوچستان میں دہشتگردی کرنے والے پاکستان کے دشمن، ان کی کوئی ناراضی نہیں، رانا ثنااللہ

آئی ایس پی آر کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ شدید اور سخت فائرنگ کے تبادلے کے بعد بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الہندستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے، جس سے ان علاقوں میں سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مارے گئے دہشتگرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں سرگرم رہے تھے۔

ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد اور تیار شدہ دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) بھی برآمد کیے گئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ان علاقوں سے دہشتگردوں کے مکمل خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشنز بدستور جاری ہیں۔

مزید پڑھیں: علما کرام کی جانب سے بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت، امن اور مکالمے پر زور

بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ وژن ’عزمِ استحکام‘ کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسداد دہشت گردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشتگردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews آئی ایس پی آر بلوچستان دہشتگرد ہلاک سیکیورٹی فورسز وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں