اسلام آباد:

چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن کی تعیناتی غیر معمولی تاخیر کا شکار ہے اور  6 ماہ گزرنے کے باوجود یہ اہم عہدہ تاحال ایڈہاک بنیادوں پر چلایا جا رہا ہے۔

وزارت تعلیم کے ذرائع کے مطابق اس وقت سیکرٹری وزارت تعلیم نعیم محبوب بطور قائم مقام چیئرمین ایچ ای سی خدمات سرانجام دے رہے ہیں جب کہ چیئرمین ایچ ای سی کی تعیناتی کی سمری وزیر اعظم کو بھجوائی گئی تھی،  تاہم تاحال اس پر کوئی جواب موصول نہیں ہو سکا۔

سابق چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد کی مدت ملازمت ختم ہونے کے بعد 30 جولائی 2025 سے ادارہ مستقل چیئرمین ایچ ای سی سے محروم ہے۔ اسی روز سیکرٹری وفاقی وزارت تعلیم نعیم محبوب کو اضافی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ ابتدائی طور پر 3 ماہ کے لیے کی گئی ایڈہاک تعیناتی کے موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا تھا کہ مستقل چیئرمین ایچ ای سی جلد تعینات کر لیا جائے گا، کیونکہ وزیر اعظم پاکستان نے وفاقی وزیر تعلیم کی سربراہی میں سرچ کمیٹی بھی تشکیل دی تھی۔

اسامی مشتہر ہونے کے بعد 750 امیدواروں نے چیئرمین ایچ ای سی کے عہدے کے لیے درخواستیں جمع کروائیں۔ ذرائع کے مطابق ابتدا میں کوشش کی گئی کہ کسی بیرون ملک امیدوار کو چیئرمین ایچ ای سی کے لیے منتخب کیا جائے، تاہم مراعاتی پیکیج بین الاقوامی معیار کے مطابق نہ ہونے کے باعث مقامی ’وائس چانسلرز کی بیوروکریسی‘ میں سے ہی امیدواروں کو شارٹ لسٹ کیا گیا۔

وزیر اعظم کو بھجوائی گئی سمری پر تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سمری میں شامل ناموں کی سیکیورٹی کلیئرنس حاصل کی جا رہی ہے جب کہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے کسی امیدوار کو بھی سمری میں شامل کیا جائے۔ وزیر اعظم کو ارسال کی گئی سمری میں وائس چانسلر این ای ڈی یونیورسٹی ڈاکٹر سروش حشمت لودھی، وائس چانسلر قائد اعظم یونیورسٹی ڈاکٹر نیاز احمد اختر اور پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی کے نام شامل ہیں۔

وزارت کے ذرائع نے بتایا ہے کہ کراچی کی لابی ڈاکٹر سروش حشمت لودھی کی تعیناتی کے لیے سرگرم ہے۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ سابق سربراہان پالیسی گائیڈ لائنز پر مؤثر طور پر کام نہیں کر سکے جب کہ فنڈنگ اور پالیسی گائیڈ لائنز پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق وائس چانسلرز کی بیوروکریسی کا گٹھ جوڑ ختم ہونا چاہیے کیونکہ گزشتہ  2 دہائیوں سے وہی نام مختلف جامعات میں وائس چانسلرز کے عہدوں پر تعینات ہوتے آ رہے ہیں۔

ماہرین تعلیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ سمری میں بھجوائے گئے ناموں پر نیشنل میڈیا پر ڈیبیٹ کروائی جائے تاکہ اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے امیدواروں کا ویژن سامنے آ سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: چیئرمین ایچ ای سی کی تعیناتی کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا