چیئرمین ایچ ای سی کی تعیناتی میں غیر معمولی تاخیر، عہدہ تاحال ایڈہاک پر
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن کی تعیناتی غیر معمولی تاخیر کا شکار ہے اور 6 ماہ گزرنے کے باوجود یہ اہم عہدہ تاحال ایڈہاک بنیادوں پر چلایا جا رہا ہے۔
وزارت تعلیم کے ذرائع کے مطابق اس وقت سیکرٹری وزارت تعلیم نعیم محبوب بطور قائم مقام چیئرمین ایچ ای سی خدمات سرانجام دے رہے ہیں جب کہ چیئرمین ایچ ای سی کی تعیناتی کی سمری وزیر اعظم کو بھجوائی گئی تھی، تاہم تاحال اس پر کوئی جواب موصول نہیں ہو سکا۔
سابق چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد کی مدت ملازمت ختم ہونے کے بعد 30 جولائی 2025 سے ادارہ مستقل چیئرمین ایچ ای سی سے محروم ہے۔ اسی روز سیکرٹری وفاقی وزارت تعلیم نعیم محبوب کو اضافی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ ابتدائی طور پر 3 ماہ کے لیے کی گئی ایڈہاک تعیناتی کے موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا تھا کہ مستقل چیئرمین ایچ ای سی جلد تعینات کر لیا جائے گا، کیونکہ وزیر اعظم پاکستان نے وفاقی وزیر تعلیم کی سربراہی میں سرچ کمیٹی بھی تشکیل دی تھی۔
اسامی مشتہر ہونے کے بعد 750 امیدواروں نے چیئرمین ایچ ای سی کے عہدے کے لیے درخواستیں جمع کروائیں۔ ذرائع کے مطابق ابتدا میں کوشش کی گئی کہ کسی بیرون ملک امیدوار کو چیئرمین ایچ ای سی کے لیے منتخب کیا جائے، تاہم مراعاتی پیکیج بین الاقوامی معیار کے مطابق نہ ہونے کے باعث مقامی ’وائس چانسلرز کی بیوروکریسی‘ میں سے ہی امیدواروں کو شارٹ لسٹ کیا گیا۔
وزیر اعظم کو بھجوائی گئی سمری پر تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سمری میں شامل ناموں کی سیکیورٹی کلیئرنس حاصل کی جا رہی ہے جب کہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے کسی امیدوار کو بھی سمری میں شامل کیا جائے۔ وزیر اعظم کو ارسال کی گئی سمری میں وائس چانسلر این ای ڈی یونیورسٹی ڈاکٹر سروش حشمت لودھی، وائس چانسلر قائد اعظم یونیورسٹی ڈاکٹر نیاز احمد اختر اور پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی کے نام شامل ہیں۔
وزارت کے ذرائع نے بتایا ہے کہ کراچی کی لابی ڈاکٹر سروش حشمت لودھی کی تعیناتی کے لیے سرگرم ہے۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ سابق سربراہان پالیسی گائیڈ لائنز پر مؤثر طور پر کام نہیں کر سکے جب کہ فنڈنگ اور پالیسی گائیڈ لائنز پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق وائس چانسلرز کی بیوروکریسی کا گٹھ جوڑ ختم ہونا چاہیے کیونکہ گزشتہ 2 دہائیوں سے وہی نام مختلف جامعات میں وائس چانسلرز کے عہدوں پر تعینات ہوتے آ رہے ہیں۔
ماہرین تعلیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ سمری میں بھجوائے گئے ناموں پر نیشنل میڈیا پر ڈیبیٹ کروائی جائے تاکہ اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے امیدواروں کا ویژن سامنے آ سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چیئرمین ایچ ای سی کی تعیناتی کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔