معیار تعلیم بہتر بنانے کیلئے مقامی ادارون کا ہاتھ تھامنا ناگزیر، عطاتارڑ
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے یونیورسٹی آف لندن کی پاکستان کے تعلیمی شعبے سے وابستگی اور خلوص کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یونیورسٹی آف لندن نے پاکستان میں تعلیم کے معیار کو نئی جہت دی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونیورسٹی آف لندن کے اعلیٰ سطحی وفد کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں قائم مقام صدر و چیئرمین سینٹ سید یوسف رضا گیلانی، جسٹس عائشہ ملک، پرو وائس چانسلر یونیورسٹی آف لندن فل آلمینڈنگر (Phil Allmendinger)، ڈائریکٹوریٹ آف لیگل ایجوکیشن کے ڈائریکٹر اسامہ ملک، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ہارون رشید، رکن پنجاب اسمبلی آمنہ شیخ، برٹش کونسل کے کنٹری ڈائریکٹر جیمز ہیمپسن، یونیورسٹی آف لندن کے ریجنل ہیڈ برائے ساو تھ ایشیا سعد وسیم، ممتاز قانون دان احمر بلال صوفی اور یونیورسٹی آف لندن کے تسلیم شدہ تعلیمی اداروں کے نمائندگان بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات نے کہا کہ وہ نہ صرف جامعہ لندن کے سابق طالبِ علم ہیں بلکہ خود کو جامعہ لندن کا اعزازی برانڈ ایمبیسیڈر بھی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں تعلیم کے شعبے کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی آف لندن کا یہ علمی و تعلیمی سفر کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دورے کے موقع پر ایل ایل بی پروگرام میں ”انٹروڈکشن ٹو پاکستانی لا“ کو بطور ماڈیول شامل کیا گیا تھا جو ایک اہم پیش رفت ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے ٹیکنالوجی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ لندن کی یہ نمایاں خصوصیت ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران اس میں بہتری اور جدت دیکھنے میں آئی۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق و ترقی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور نہ صرف پاکستان میں جامعہ لندن کے پروگرامز کے حوالے سے بلکہ عالمی سطح پر ہر گزرتے سال کے ساتھ اس میں مزید بہتری نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں قائم تدریسی مراکز غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ یہی مراکز جامعہ کے سفیر اور پاکستان میں اس کے نمائندے ہوتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تعلیمی نصاب، تحقیق و ترقی اور معیاری تعلیم کی فراہمی اپنی جگہ اہم ہے تاہم اس پورے عمل میں اساتذہ کا کردار بھی نہایت کلیدی ہے، اس لیے فیکلٹی پر خصوصی توجہ دینا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس پر تہہ دل سے شکر گزار ہیں، ان تعلیمی پروگرامز کے مزید فروغ کے لیے جو کچھ بھی ممکن ہوا حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں حکومت پاکستان، حکومت پنجاب، پاکستان بار کونسل اور برٹش کونسل کی جانب سے پہلے ہی نمایاں کام کیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے مقامی تعلیمی اداروں کی رہنمائی اور سرپرستی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تعلیم کا معیار بہتر بنانے کے لیے مقامی اداروں کا ہاتھ تھامنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ لندن نے تعلیمی میدان میں نہایت بلند معیار قائم کیے ہیں جن پر پورا اترنا ایک چیلنج ضرور ہے تاہم اس حوالے سے آو ٹ ریچ پروگرامز پر کام جاری ہے اور اس امر کی یقین دہانی کرائی کہ ان پروگرامز کے فروغ میں حکومت ہمیشہ پیش پیش رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دورے کے موقع پر یونیورسٹی آف لندن کے پرو وائس چانسلر کو پاکستان کے دیگر شہروں کا بھی دورہ کرنا چاہیے تاکہ وہ پاکستانی عوام کی ثابت قدمی اور ان ثقافتی و تہذیبی اقدار کا مشاہدہ کر سکیں جنہیں ہم نہایت عزیز رکھتے ہیں۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ جامعہ لندن صدیوں پر محیط روایات اور تاریخ کی حامل ہے، اس کے لیے ہر ممکن خدمت اور تعاون کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: یونیورسٹی آف لندن کے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں وفاقی وزیر ہوئے کہا کے لیے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔