Jang News:
2026-06-02@23:33:19 GMT

پنجاب میں گندم کی قیمت میں 7 سو روپے فی من اضافہ

اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT

پنجاب میں گندم کی قیمت میں 7 سو روپے فی من اضافہ

--فائل فوٹو

لاہور سمیت پنجاب بھر میں گندم کی قیمت میں 7 سو روپے فی من اضافہ ہوگیا۔

مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ گندم کی قیمت 4400 روپے فی من سے بھی تجاوز کرگئی، راولپنڈی میں گندم فی من 48 سو روپے ہوگئی۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق 15 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 1500 روپے سے بڑھ کر 1750 ہوگئی، لاہور میں گندم فی من 4450 روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔

بلوچستان: 10روز میں آٹے کی قیمت میں 20 روپے فی کلو اضافہ

بلوچستان میں آٹے کا بحران ہے اور 10روز کے دوران آٹے کی قیمت میں 20 روپے فی کلو اضافہ ہوا ہے۔

مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ گوجرانوالہ اور گجرات میں گندم کی قیمت فی من 4500 روپے جبکہ ملتان میں 4450 روپے فی من فروخت ہو رہی ہے۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق بہاولپور اور ڈی جی خان میں گندم کی قیمت فی من 4400 روپے ہے۔ لاہور کے متعدد علاقوں میں 10 کلو اور 20 کلو والا آٹے کا تھیلا نایاب ہوگیا ہے۔

چیئرمین فلور ملز ایسوسی ایشن عاصم رضا کا کہنا ہے کہ گندم کی قلت کے باعث آٹے کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔

دوسری جانب محکمہ خوراک پنجاب نے کہا کہ آٹے کی کوئی قلت نہیں ہے، بازار میں وافر مقدار میں موجود ہے۔ 10 اور 20 کلو آٹے کا تھیلا دکانوں پر وافر  مقدار میں دستیاب ہے۔

محکمہ خوراک پنجاب کے مطابق 7 سو سے زائد ملیں سرکاری گندم والا سستا آٹا فراہم کر رہی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: میں گندم کی قیمت مارکیٹ ذرائع کی قیمت میں روپے فی من

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے