ہوشمندی کا تقاضا ہے بات کی جائے، نہیں چاہتے کچھ ایسا ہو جس سے پاکستان کا نقصان ہو، سلمان اکرم راجا
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
ہوشمندی کا تقاضا ہے بات کی جائے، نہیں چاہتے کچھ ایسا ہو جس سے پاکستان کا نقصان ہو، سلمان اکرم راجا WhatsAppFacebookTwitter 0 15 January, 2026 سب نیوز
پشاور:(آئی پی ایس) تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ ہوشمندی کا تقاضا ہے بات کی جائے، ہم نہیں چاہتے کچھ ایسا ہو جس سے پاکستان کا نقصان ہو۔
ہائی کورٹ میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کراچی گئے تو لوگوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا، جس سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اب تمام لوگوں کو پتا چل چکا ہے کہ ملک غلط سمت میں جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام اب اپنا مقدمہ خود لڑیں گے کیونکہ عوام کو آئین نے یہ حق دیا ہے کہ وہ اپنے لیے آواز اٹھائیں ۔ ہم اپنا مقدمہ عوام کے سامنے رکھ چکے ہیں۔
سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو بے وقعت کیا گیا ہے۔ ہوش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ بیٹھ کر بات کی جائے۔ اگر لوگوں کو ناحق جیل میں ڈالا جائے گا تو ملک کیسے آگے بڑھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تاریخ اپنا فیصلہ خود کرتی ہے ۔ اب ہر شخص نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس طرح زندگی گزارنا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس وقت نظام پر مسلط ہیں انہیں عوام کے ساتھ بیٹھنا ہوگا، کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ ملک میں ایسا کچھ ہو جس سے پاکستان کا نقصان ہو۔ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ اس وقت ملک میں ترقی نہیں ہو رہی اور نہ ہی سرمایہ کاری ہو رہی ہے، آئندہ کیا ہوگا اس کی ذمہ داری اب انہی پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب تک اپوزیشن لیڈر کی تقرری نہیں ہو سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مقرر کیا جانا چاہیے ۔ سینیٹ میں راجا ناصر عباس کو اپوزیشن لیڈر بنایا جانا چاہیے۔ اسپیکر کو چاہیے کہ وہ ان کی تقرری کر دیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان کسٹمز کی بڑی پیش رفت: شپنگ چارجز سرکاری ریٹس کے مطابق نافذ پاکستان کسٹمز کی بڑی پیش رفت: شپنگ چارجز سرکاری ریٹس کے مطابق نافذ ایران میں پھنسے پاکستانی مشکلات کا شکار، وزیراعظم سے مدد کی اپیل امریکا نے وینزویلا کا تیل باضابطہ طور پر بیچنا شروع کردیا ایرانی قیادت اور عوام پر مکمل اعتماد ہے،پرامن اورمستحکم ایران پاکستان کے مفاد میں ہے، ترجمان دفتر خارجہ عالمی درجہ بندی میں پاکستانی پاسپورٹ 126 سے 98 نمبر پر آگیا قازقستان: “تازہ قازقستان” مہم نے ملک بھر میں ماحولیاتی انقلاب برپا کر دیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ہو جس سے پاکستان کا نقصان ہو سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ بات کی جائے نہیں چاہتے کا تقاضا کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔