ایف بی آر چاہتا ہے ٹیکس دہندگان خوف میں مبتلا رہیں: وکیل
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
اسلام آباد(خصوصی رپورٹر) وفاقی آئینی عدالت میں زیر سماعت سپر ٹیکس سے متعلق کیس میں مختلف کمپنیوں کے وکیل فروغ نسیم نے عدالت میں تفصیلی دلائل دیتے ہوئے سپر ٹیکس اور عدالتی فیصلوں کے احترام سے متعلق اہم نکات اٹھائے۔ چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران وکیل فروغ نسیم نے مو قف اختیار کیا کہ ایف بی آر کے پاس معمولی گنجائش موجود ہے کہ وہ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کو ماننے سے انکار کر دے اور عدالت کو اس وقت ایف بی آر اور ٹیکس دہندگان دونوں کے بارے میں سوچنا ہوگا، کیونکہ ایف بی آر یہ چاہتا ہے کہ ان کے پاس پیسہ ہو ہی نہ جبکہ ٹیکس دینے والے اس خوف میں مبتلا ہیں کہ وہ آخرکار تھک کر ملک نہ چھوڑ جائیں۔ فروغ نسیم نے کہا کہ یہ چاہ رہے ہیں کہ 75 سال کی قانون سازی کو آئینی عدالت تہس نہس کر دے، تاہم انہیں یقین ہے کہ آئینی عدالت دیگر عدالتی فیصلوں کو نہیں کچلے گی، کیونکہ لاکھوں لوگوں کا سڑکوں پر نکل آنا اتنا خطرناک نہیں جتنا عدالتوں کا اپنے ہی فیصلے کچل دینا ہو گا۔ عدالت نے سماعت آج تک ملتوی کر دی اور مختلف کمپنیوں کے وکیل فروغ نسیم آج بھی اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: آئینی عدالت ایف بی آر
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔