سٹی42: حکومت پنجاب کا اپنی چھت اپنا گھر پروگرام صوبے بھر میں ہزاروں خاندانوں کی زندگیاں بدلنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت اب تک 64 ہزار سے زائد گھروں کی تعمیر مکمل کی جا چکی ہے، جس سے مستحق افراد کو کرایہ داری اور غیر یقینی صورتحال سے نجات ملی ہے۔
محکمہ ہاؤسنگ کے ترجمان کے مطابق پروگرام کے تحت پہلی قسط میں ایک لاکھ 21 ہزار 480 قرضے جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ 21 ہزار 390 خاندانوں کو جلد دوسری قسط فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ 18 ہزار 240 نئے منظور شدہ قرضے بھی آئندہ دنوں میں جاری کیے جائیں گے۔
آٹا مزیدمہنگاہوگیا
ترجمان کا کہنا ہے کہ اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کے تحت اب تک 5 ارب 53 کروڑ روپے کی ریکوری مکمل ہو چکی ہے اور منصوبے پر شفاف، تیز اور مؤثر انداز میں عملدرآمد جاری ہے۔ شہر اور دیہاتی دونوں علاقوں میں گھروں کی تعمیر کا عمل تیزی سے جاری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندانوں کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔
محکمہ ہاؤسنگ کے مطابق مستحق افراد تک آسان رسائی کے لیے صوبے بھر میں دفاتر قائم کیے گئے ہیں جبکہ آن لائن درخواست کا طریقہ کار بھی نہایت سادہ اور آسان رکھا گیا ہے۔
انٹرمیڈیٹ امتحانی عملے کے معاوضوں کیلئے فنڈز جاری
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔