پنجاب میں 2115 نئی آسامیوں پر مکمل بنیادوں پر بھرتی کے عمل کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
حکومت پنجاب نے 2115 نئی آسامیوں پر مکمل بنیادوں پر بھرتی کے عمل کا آغاز کردیا
2115 نئی آسامیوں پر مکمل بنیادوں پر بھرتی کے حوالے سے دو جنوری کو محکمہ خزانہ پنجاب نے نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ پنجاب حکومت کی جانب سے محکمہ صحت میں جنرل کیڈر اور کنسلٹنٹس کی مستقل آسامیاں ختم کر دی گئی تھیں۔
2115 نئی آسامیاں تخلیق کرنے کی منظوری دے دی گئی تھی۔ نئی آسامیاں اسپیشل پے پیکیج کے تحت مکمل بنیادوں پر متعارف کرائی گئیں۔
صوبائی کابینہ نے سیکنڈری لیول ہیومن ریسورس رولز 2025 کی منظوری دی۔ حکومت کے مطابق اس اقدام سے اسپتالوں میں ڈاکٹرز کی دستیابی بہتر ہوگی۔ نئی بھرتیوں کا مقصد ڈی ایچ کیو اور ٹی ایچ کیو اسپتالوں میں سروس ڈیلیوری بہتر بنانا ہے۔
دستاویزات کے مطابق 2115 نئی آسامیاں اتنی ہی پرانی آسامیوں کے خاتمے کے عوض بنائی گئیں۔ جنرل کیڈر اور کنسلٹنٹس کی مستقل آسامیاں ختم کر دی گئیں جبکہ نئی پوسٹس مستقل سروس اسٹرکچر کے بجائے لم سم پیکیج پر ہوں گی۔
حکومت کے مطابق یہ اقدام مالی نظم و ضبط کے دائرے میں ہے۔ نئی بھرتیاں سلیکشن بورڈ کی سفارشات کی بنیاد پر ہوں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بنیادوں پر
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔