ایران پر امریکی حملے کے قوی امکانات، خطہ ہائی الرٹ پر، میڈیا رپورٹس WhatsAppFacebookTwitter 0 15 January, 2026 سب نیوز

تہران(آئی پی ایس )مشرق وسطی ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں آ گیا ہے، جہاں ایران پر ممکنہ امریکی حملے سے متعلق خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگی ہیں۔برطانوی خبر ایجنسی نے مغربی فوجی ذرائع کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ تمام شواہد اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ ایران پر عنقریب حملہ ہو سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مغربی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ غیر متوقع اقدامات امریکی عسکری حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہوتے ہیں، اسی لیے صورتحال کو جان بوجھ کر غیر واضح رکھا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت کے ساتھ ہی سفارتی سطح پر بھی غیر معمولی سرگرمیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ نے ایران سے اپنا تمام سفارتی عملہ واپس بلا لیا ہے جبکہ برطانوی سفیر کو بھی تہران سے وطن واپس طلب کر لیا گیا ہے۔ اس اقدام کو ممکنہ فوجی کارروائی سے جوڑا جا رہا ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو مظاہرین پر تشدد اور پھانسیوں کے معاملے پر پہلے ہی سنگین نتائج کی دھمکی دے چکے ہیں۔وائٹ ہاس کے اوول آفس میں گزشتہ رات ایک پریس بریفنگ میں امریکی صدر نے اعتراف کیا کہ ایران میں مظاہرین پر طاقت کے استعمال میں کمی آئی ہے۔

اسرائیلی اخبار نے دعوی کیا ہے کہ ایران پر حملہ کچھ دن کے لیے مخر کر دیا گیا ہے کیونکہ اب تہران سے مظاہرین کی ہلاکتوں کی خبروں میں کمی آ گئی ہے۔امریکی حملے کے خدشے کے باعث اسپین، پولینڈ، اٹلی، بھارت سمیت کئی ممالک نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔علاقائی سطح پر بھی خطرے کی فضا برقرار ہے اطلاعات کے مطابق مشرق وسطی میں واقع امریکی ایئر بیسز سے فوجیوں کا انخلا شروع ہو چکا ہے۔ ادھر ایران نے بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے محفوظ نہیں رہیں گے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرغیر جانبداری کے موقف پر قائم,ایران کے خلاف سرزمین استعمال نہیں کرنے دیں گے،پاکستان غیر جانبداری کے موقف پر قائم,ایران کے خلاف سرزمین استعمال نہیں کرنے دیں گے،پاکستان ٹرمپ ایران پر مختصر مگر فیصلہ کن حملہ کرنا چاہتے ہیں: امریکی میڈیا کا انتباہ امریکا نے وینزویلا کا تیل باضابطہ طور پر بیچنا شروع کردیا قازقستان: “تازہ قازقستان” مہم نے ملک بھر میں ماحولیاتی انقلاب برپا کر دیا ایران میں ہلاکتیں رک گئیں، اب پھانسیاں نہیں ہوں گی: ٹرمپ احتساب عدالت: ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن، پرویز الہٰی پر فردِ جرم عائد TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: امریکی حملے ایران پر

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان