ہالی ووڈ کی نئی فلم 'اواتار: فائر اینڈ ایش' نے مسلسل چوتھے ہفتے بھی شمالی امریکا کے باکس آفس پر پہلی پوزیشن برقرار رکھی ہوئی ہے، فلم نے اب تک صرف شمالی امریکہ میں 350 ملین ڈالرز سے زائد کا بزنس کرلیا ہے۔

عالمی سطح پر اس فلم کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ اب تک ایک ارب 23 کروڑ ڈالرز سے زائد کا بزنس کرچکی ہے۔

اگرچہ یہ اعداد و شمار پچھلی اواتار فلموں کے مقابلے میں کم ہیں، لیکن پھر بھی یہ 2025 کی سب سے بڑی فلموں میں شامل ہو گئی ہے۔

'اواتار: فائر اینڈ ایش' کی کامیابی نے ڈزنی کمپنی کے لیے بھی یہ سال یادگار بنا دیا ہے، کیونکہ 'لائلو اینڈ اسٹچ' اور 'زوٹوپیا 2' کے بعد یہ اس سال کی تیسری فلم ہے جس نے ایک ارب ڈالرز کا سنگ میل عبور کیا ہے۔

حیران کن طور پر فلم کے ہدایت کار جیمز کیمرون نے پہلے ہی اشارہ دے دیا تھا کہ اگر یہ فلم توقعات پر پورا نہ اتری تو وہ اس سیریز کو ختم کرنے کا اعلان کرسکتے ہیں، لیکن اب اس شاندار کامیابی کے بعد اواتار کے اگلے حصوں یعنی 'اواتار 4' اور 'اواتار 5' کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

یاد رہے کہ اواتار سیریز کا سفر 1994 میں شروع ہوا تھا، لیکن اس وقت ٹیکنالوجی اتنی جدید نہیں تھی کہ جیمز کیمرون اپنا ویژن سنیما اسکرین پر اتارسکتے۔

تاہم، 2009 میں پہلی فلم کی ریلیز سے لے کر اب تک، یہ فرنچائز اپنی جدید ترین وژول افکیٹس اور موشن کیپچر ٹیکنالوجی کی وجہ سے سینما کی دنیا میں ایک انقلاب سمجھی جاتی ہے۔

'اواتر: فائر اینڈ ایش' کی کامیابی نے ثابت کر دیا ہے کہ پنڈورا کی دنیا کے لیے شائقین کا جوش و خروش آج بھی برقرار ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فائر اینڈ ایش

پڑھیں:

وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے پاکستان کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد نے ملاقات کی اور انہیں علاقائی تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے قالینوں کی صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا ۔ جمعے کو جاری بیان کے مطابق ملاقات میں وزیر تجارت نے ہاتھ سے بنے قالینوں کی برآمدات بڑھانے اور عالمی مسابقت بہتر بنانے کے اقدامات پر تفصیلی بات چیت کی اورپاکستانی قالینوں کی عالمی منڈیوں میں رسائی اور برآمدی مسابقت بڑھانے کے لیے پالیسی اقدامات کا جائزہ بھی لیا۔

وفد نے علاقائی تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے قالینوں کی صنعت کو درپیش مشکلات سے وزیر تجارت کو آگاہ کیا۔

(جاری ہے)

وفد نے کہا کہ کاروبار دوست اور قابلِ پیش گوئی پالیسی فریم ورک برآمدات کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔ جام کمال نے کہا کہ حکومت شفاف، قواعد پر مبنی اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کے ذریعے برآمدات کے فروغ کے لیے پرعزم ہے،وزارتِ تجارت صنعت کی تجاویز پر متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد قابلِ عمل حل تیار کرے گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی برآمدی حکمتِ عملی ویلیو ایڈیشن، برآمدی صنعت، برانڈنگ اور عالمی ویلیو چینز میں شمولیت پر مرکوز ہے، حکومت نجی شعبے کے تعاون سے تجارت میں حائل حقیقی رکاوٹیں دور کر کے برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی کو فروغ دے گی۔\932

متعلقہ مضامین

  • پنجاب ایجوکیشن انیشیٹوز مینجمنٹ اتھارٹی میں ملازمتوں کا اعلان، درخواست دینے کا طریقہ کار جانیے
  • وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا