اسلام آباد:

وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ذیلی ادارے پاکستان کونسل فار رینوایبل انرجی ٹیکنالوجیز (پیکرٹ) کے ایک اہم ترقیاتی منصوبے میں سنگین مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ’فاسٹ ٹریک کی لیب عمارت کی تعمیر‘ کے لیے مختص سرکاری فنڈز میں مبینہ خردبرد اور بدانتظامی پر وزارت نے سخت نوٹس لے لیا ہے۔

دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق سیکرٹری وزارتِ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی منظوری سے پیکرٹ کے فنڈز میں ہونے والی بے ضابطگیوں پر کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

منصوبے کے اکاؤنٹ میں اس وقت صرف 6 ہزار 188 روپے موجود ہیں، حالانکہ منصوبہ مکمل ہو چکا ہے اور ٹھیکیدار کو تاحال ادائیگی نہیں کی گئی۔ قواعد کے مطابق اس مرحلے پر 80 لاکھ روپے بقایا ہونے چاہئیں تھے۔

منصوبہ مکمل کرنے والی فرم میسرز قوی انجینئرز پرائیویٹ لمیٹڈ نے بقایا جات کی عدم ادائیگی پر پیکرٹ حکام اور وزارتِ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے باضابطہ رجوع کرتے ہوئے فوری ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔

اس معاملے پر پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر افضل حسین کو سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی منظوری سے وضاحتی مراسلہ جاری کیا گیا ہے، جس میں ان پر منصوبے کے نفاذ میں کوتاہی، بدانتظامی اور ممکنہ بدعنوانی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

 

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ پراجیکٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے انہیں منصوبے کی مجموعی نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، تاہم وہ قواعد و ضوابط کے مطابق اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہے۔

مزید انکشاف ہوا ہے کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر اکاؤنٹس طارق رحیم منصوبے کے اکاؤنٹس میں مبینہ خردبرد میں ملوث پائے گئے، تاہم پراجیکٹ ڈائریکٹر کی جانب سے ان کے خلاف بروقت کارروائی نہیں کی گئی۔

اس پیش رفت کے بعد اسسٹنٹ ڈائریکٹر اکاؤنٹس طارق رحیم کو ابتدائی طور پر 120 روز کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔

سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے پراجیکٹ ڈائریکٹر سے تین دن کے اندر تحریری وضاحت طلب کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مقررہ مدت میں جواب جمع نہ کرانے کی صورت میں ED Rules, 2020 کے تحت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اس کے ساتھ ہی جوائنٹ سیکرٹری وزارتِ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو باضابطہ طور پر انکوائری افسر (Authorised Officer) مقرر کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق منصوبے کی رقم کئی سال قبل نکلوالی گئی تھی اور اب افسران کی جانب سے رقوم واپس کرنے کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے۔

معاملے کی انکوائری مکمل ہونے پر مزید انکشافات اور سخت کارروائی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پراجیکٹ ڈائریکٹر کے مطابق گیا ہے

پڑھیں:

کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان

کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے  جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔

ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔

حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔

2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔

 کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم  اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک  ہے۔

ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو  نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک  محیط  ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام  تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔

سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔

یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔

صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔

نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ  سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔

پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن  اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔

اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے  80 فیصد  قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان